کوئٹہ: نرسری نے نوزائیدہ لڑکے کو لڑکی سے تبدیل کردیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
کوئٹہ کے جناح روڈ پر واقع نرسری میں نوزائیدہ بچہ تبدیل ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
بچے کے والد نے الزام عائد کیا ہے کہ نرسری کے عملے نے ہمارے بیٹے کو لڑکی سے تبدیل کیا ہے، پولیس نے متاثرہ شخص کی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے نرسری کے عملے کو گرفتار کرکے تھانے منتقل کردیا۔
کوئٹہ کے رہائشی نظام الدین نامی شخص نے پولیس کو درخواست دی جس میں بتایا کہ اس کی اہلیہ نے تین دسمبر کو ایک لڑکے کو جنم دیا، جسے یرقان کی شکایت پر جناح روڈ پر واقع چلڈرن نرسری میں انکیوبیٹر میں رکھا گیا تھا، آج پانچویں روز نرسری کے عملے نے اطلاع دی کہ آپ کی بیٹی ٹھیک ہوگئی ہے اسے لے جائیں۔
کوئٹہ کا ایک اور رہائشی محمد اعظم بھی تھانے پہنچ گیا جس کا کہنا تھا کہ میرے گھر بیٹی کی ولادت ہوئے تھی اسے بھی اسی نرسری میں رکھا تھا لیکن نرسری کے عملے نے ہمیں ایک مردہ لڑکا دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے گھر لڑکا ہوا تھا جو فوت ہوگیا ہے، جس کی ہم نے تدفین کردی۔
نظام الدین کی درخواست پر سٹی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے نرسری کے دو اہلکاروں کو گرفتار کرلیا، جبکہ نرسری کی خاتون مالکہ کی تلاش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نرسری کے عملے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔