انگلش اسکواش اسٹار ٹوری ملک کراچی میں مداحوں کی محبتوں کا مرکز بن گئیں
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
کراچی:
کراچی اوپن انٹرنیشنل اسکواش ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے والی انگلینڈ کی اسکواش اسٹار ٹوری ملک کراچی میں مداحوں کی محبتوں کا مرکز بن گئیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ڈیفنس اتھارٹی کریک کلب کے آصف نواز اسکواش کمپلیکس میں ٹوری ملک مداحوں میں گھل مل گئیں، ٹوری ملک ایک ننھی بچی کو گود میں اٹھاکر اس کے ساتھ کھیلتے ہوئے پاکستانی خواتین کے ساتھ خوش گپیاں کرتی رہیں۔
21 سالہ ٹوری ملک کے والد کامران ملک پاکستان نژاد برطانوی شہری ہیں جبکہ ان کی والدہ سوزن ملک کا تعلق انگلینڈ سے ہے، عالمی اسکواش میں ملک فیملی کے نام سے مشہور اس گھرانے کے دیگر بچے بھی اسکواش کھیلتے ہیں۔
2019ء میں 15 برس کی عمر میں پروفیشنل اسکواش کھلاڑی بن جانے والی ٹوری ملک اب تک 18 انٹرنیشنل مقابلوں کے فائنل میں رسائی پا چکی ہیں جبکہ وہ 9 ٹائٹلز جیت چکی ہیں۔
ٹوری نے کراچی کے معتدل موسم اور یہاں کی روایتی میزبانی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میرا دوسرا گھر ہے، والد کی وجہ سے میرا پاکستان سے گہرا تعلق ہے، مجھے پاکستان آکر ہمیشہ یہ محسوس ہوتا ہے جیسے میں اپنے گھر میں ہوں، کراچی کے لوگ بہت پیار کرنے والے ہیں اور یہاں ملنے والی پذیرائی پر انہیں بہت مسرت ہوتی ہے۔
عالمی اعزاز اپنے نام کرنے کا خواب دیکھنے والی ٹوری ملک کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل محنت کرتے ہوئے بھرپورعزم اور جذبے کے ساتھ مستقبل میں کامیابیوں کے حوالے سے بہت پُرامید ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹوری ملک
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔