کالے شیشوں والی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن روک دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
عابد چوہدری : موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترمیم کے بعد فیکٹری میں نصب (OEM) ٹنٹ گلاسز والی گاڑیوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن روک دیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی ٹریفک کے مطابق گاڑیوں کی سائیڈ اسکرین اور بیک اسکرین پر فیکٹری OEM ٹنٹ گلاسز ٹریفک قوانین کے تحت غیر قانونی نہیں ہیں، اس لیے ان گاڑیوں کے خلاف چالان یا مقدمات درج نہ کیے جائیں۔
ڈی آئی جی ٹریفک نے واضح کیا کہ صرف وہ ٹنٹ گلاسز قابلِ اعتراض ہیں جو بعد ازاں غیر قانونی طور پر لگائے گئے ہوں، جبکہ فیکٹری سے نصب شیشوں پر کارروائی کی اجازت نہیں ہے۔
گھڑ سواری میں پاکستان کا تاریخی اعزاز، عثمان خان عالمی رینکنگ میں سرفہرست
اس حوالے سے لاہور سمیت پنجاب بھر کی ٹریفک پولیس کو باقاعدہ ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل ٹریفک پولیس کی جانب سے OEM ٹنٹ گلاسز والی گاڑیوں کے مالکان کے خلاف بھی کارروائیاں کی جا رہی تھیں، تاہم ترمیم کے بعد اس پالیسی میں تبدیلی کر دی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: گاڑیوں کے ٹنٹ گلاسز کے خلاف
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔