بی جے پی جعلی ووٹ بنانے کے مشن پر گامزن ہے، اکھلیش یادو
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
لکھنؤ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بوتھ لیول پر جا کر اپنے نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں ضرور چیک کریں تاکہ انکے ووٹ پر کوئی اثر نہ پڑے۔ اسلام ٹائمز۔ سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اکھلیش یادو نے اترپردیش میں خصوصی جامع نظرثانی (اسپیشل انٹینسیو ریویژن–SIR) کے دوران 2 کروڑ 89 لاکھ ووٹروں کے نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے خارج کئے جانے کے بعد بی جے پی پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی ریاست میں جعلی ووٹ بنانے کے مشن پر کام کر رہی ہے۔ لکھنؤ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بوتھ لیول پر جا کر اپنے نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں ضرور چیک کریں تاکہ ان کے ووٹ پر کوئی اثر نہ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو چاہیئے کہ وہ اپنے ووٹ کی حفاظت کریں اور بی جے پی کے جھوٹے بیانیے میں نہ پھنسیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلی بار ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ بی جے پی لیڈر خود ایس آئی آر کو لے کر پریشان ہیں، وہ ووٹروں کی تعداد بڑھانے کی بات کر رہے ہیں اور انتظامی افسران پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
اکھلیش یادو نے مزید کہا کہ اگر بی جے پی جعلی ووٹ بنانے کی کوشش کرتی ہے تو سماج وادی پارٹی کے کارکن، جنہیں انہوں نے "پی ڈی اے پرہری" قرار دیا، اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اتنی بڑی تعداد میں ووٹ کٹنے کے بعد پوری بی جے پی جعلی ووٹ بنانے کے مشن پر ہے، خود وزیراعلیٰ افسران کو ووٹ بڑھانے کی ہدایت دے رہے ہیں۔ چیف الیکٹورل آفیسر کے مطابق ووٹر لسٹ سے متعلق دعویٰ اور اعتراضات کی مدت 6 جنوری 2026ء سے 6 فروری 2026ء تک مقرر کی گئی ہے۔ اس دوران اہل ووٹروں کے اندراج، نااہل ووٹروں کے نام خارج کرنے سے متعلق درخواستیں دی جا سکتی ہیں۔
اترپردیش ریاست میں 403 الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرز (ERO) اور 2042 اسسٹنٹ EROs ان معاملات کی جانچ کریں گے، جبکہ ضرورت کے مطابق اضافی افسران بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ ووٹروں کے ناموں کی بڑے پیمانے پر کٹوتی نے اترپردیش کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف الیکشن کمیشن اسے انتظامی اور قانونی عمل قرار دے رہا ہے، تو دوسری طرف اپوزیشن اسے سیاسی سازش بتا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ ریاستی سیاست میں مزید بحث کا موضوع بن سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جعلی ووٹ بنانے اکھلیش یادو ووٹروں کے انہوں نے ووٹر لسٹ بی جے پی رہے ہیں
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔