گرین لینڈ کے پوشیدہ ‘خزانے’ جن کی وجہ سے امریکا اس پر قبضہ کرنا چاہتا ہے
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
گرین لینڈ کی برفانی سرزمین کے نیچے چھپے قدرتی وسائل ایک صدی سے زائد عرصے سے عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں، اور اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دلچسپی نے اس معاملے کو ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔
گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور یہ ڈنمارک کا ایک نیم خودمختار خطہ ہے۔ اگرچہ یہ جزیرہ بے حد وسیع اور معدنی دولت سے مالا مال ہے، لیکن ان وسائل تک رسائی اب بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: گرین لینڈ پر امریکی حملے کی صورت میں کیا کریں؟ یورپی ممالک سر جوڑ کر بیٹھ گئے
ماہرین کے مطابق گرین لینڈ میں نایاب معدنیات، اہم دھاتیں اور ممکنہ تیل و گیس کے ذخائر موجود ہیں، جو گرین انرجی ٹیکنالوجی کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم سخت موسمی حالات، بنیادی ڈھانچے کی کمی، سڑکوں اور ریلوے کا نہ ہونا، اور ماحولیات سے متعلق خدشات کان کنی کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
گرین لینڈ میں پائے جانے والے نایاب ارضی عناصر (ریئر ارتھ ایلیمنٹس) میں نیوڈیم، ڈسپروسیئم اور ٹیربیئم شامل ہیں، جو ونڈ ٹربائنز، الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریوں، موبائل فونز اور دفاعی ٹیکنالوجی میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں زنک، نکل، تانبا، سونا اور لوہے کے ذخائر بھی موجود ہونے کے شواہد ملے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ڈنمارک، برطانیہ اور فرانس نے ٹرمپ کی گرین لینڈ پر دعوے کی مخالفت
تاریخ میں کئی بار امریکا نے گرین لینڈ کو حاصل کرنے کی کوشش کی، جن میں 1946 میں سونے کے بدلے خریدنے کی پیشکش اور 2019 میں ٹرمپ کی جانب سے خریداری کی تجویز شامل ہے، جسے ڈنمارک نے مسترد کر دیا تھا۔ حالیہ دنوں میں ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کو ضم کرنے کے بیانات پر یورپی اتحادیوں نے سخت ردعمل دیا ہے، حتیٰ کہ ڈنمارک کی وزیر اعظم نے نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوال اٹھا دیا۔
ماضی میں کان کنی کے منصوبوں سے ماحول کو شدید نقصان پہنچا، جس کے اثرات آج بھی مقامی آبادی، ماہی گیری اور جنگلی حیات پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے گرین لینڈ کی پارلیمنٹ نے یورینیم سے متعلق سخت قوانین نافذ کیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا گرین لینڈ معدنیات وسائل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا گرین لینڈ معدنیات گرین لینڈ ٹرمپ کی
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔