وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ بات چیت  نہ  ہونے  اور سنجیدہ سیاسی ڈائیلاگ میں واحد رکاوٹ صرف اور صرف بانی  پی ٹی آئی ہیں، حکومت کا اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی سے کوئی لینا دینا نہیں بلکہ طریقہ کار کے تحت اس کام کو ایاز صادق نے سرانجام دینا ہے۔ 

زیر مملکت اور رہنما مسلم لیگ ن  بلال اظہر  کیانی نے پروگرام  سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے  کہا ہے کہ بات چیت نہ ہونے  کی واحد وجہ بانی پی ٹی آئی  اور وہ ہی سنجیدہ سیاسی ڈائیلاگ میں رکاوٹ صرف اور صرف بانی  پی ٹی آئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ جس کو اپنا لیڈر کہتے ہیں وہ بالکل الگ بات کر رہا ہے جو کہ تصادم کا راستہ ہے اور دوسری طرف دیگر ممبران مذاکرات کی بات کر رہے ہوں ۔ بانی پی ٹی آئی  تو یہ کہتے ہیں کہ این ڈی  یو کی ورکشاپ  میں بھی جو پی ٹی آئی کے لوگ جائیں  تو یہ شرمناک بات ہے۔

بلال اظہر  کیانی نے کہا کہ ایسے معاملہ نہیں چلے گا اور نہ بات چیت ہوسکے گی، مذاکراتی  عمل میں رکاوٹ صرف اور صرف عمران خان ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی لائن کیا ہے یہ دیکھنے کے لیے بانی کا ایکس اکاونٹ دیکھیں ، وہ کس طرح کی باتیں کرتے ہیں ؟ وہ صرف آگ  اور زہر اگلتے ہیں، آج تک ان کے منہ سے نہیں نکلا کہ  میں  سیاسی جماعتوں سے بات کرنے کے لیے تیار ہوں،  سیاسی بات چیت  میں رکاوٹ  صرف اور صرف بانی پی ٹی آئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلے بھی جب مذاکرات کی بات ہوئی تو اپنی ٹیم کو انہوں نے پیچھے ہٹا لیا تھا، پی ٹی آئی ہی مذاکرات سے پیچھے ہٹتی آئی ہے۔

بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ جعفر ایکسپریس حملے، پہلگام واقعے کے بعد پی ٹی آئی کو ایوان میں اکٹھے  بیٹھنے کی دعوت دی گئی تھی  لیکن پی ٹی آئی نہیں آئی۔ وزیر اعظم نے حالیہ دنوں میں سی ایم کے پی کو دعوت دی لیکن وہ نہیں آئے،  دہشت گردی کیخلاف جنگ کیخلاف جانے کا بیانہ  پی ٹی آئی پر ہے ۔ ریاست نے دہشت گردی کیخلاف جنگ لڑنے  اور پی ٹی آئی کی طرف ہاتھ  بڑھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

مزید پڑھیں

تحریک تحفظ آئین پاکستان کی نواز شریف کو مل کر چلنے کی دعوت

5 بڑوں میں مینڈیٹ صرف عمران کے پاس ہے، نواز و شہباز بااختیار نہیں، حکومت خیبرپختونخوا

وزیر مملکت  نے کہا کہ ہم تو کہتے ہیں ایپکس کمیٹی میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا آ کر اپنی ذمہ داری ادا کریں،  پی ٹی آئی قومی اسمبلی اور سینیٹ اور  قائمہ کمیٹیوں میں  میں آ کر اپنا کردار ادا کرے، دہشت گردی ، معیشت اور دیگر اہم ایشوز پر اپنا  کردار  ادا کریں، جب  کوئی کام نہ کرنا ہو تو اس   10 بہانے ڈھونڈ سکتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ پی ٹی  آئی کے پاس جعفر ایکسپریس ، پہلگام واقعے کے بعد  بریفنگ میں نہ آنے کا بھی بہانہ تھا، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر جب چاہتے ہیں اسپیکر قومی اسمبلی ان کو وقت دیتے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ اہم  قومی معاملات میں پی ٹی آئی اپنا کردار ادا  کرے، یہ اپنی ذمہ داری سے بھاگ رہے ہیں۔  

ایک سوال کا جواب  دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کا اپوزیشن لیڈر تعیناتی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، وہ قومی اسمبلی کے رولز اینڈ پروسیجر کے مطابق   اسپیکر قومی اسمبلی  ایاز صادق نے  پراسس آگے  چلانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی جانب سے جنگ کا حصہ بننے کی بجائے روڑے اٹکانے اور ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے جس کی وجہ سے دہشت گردی سے  متعلق ابہام پیدا  کیا جاتا ہے۔

وزیرمملکت نے کہا کہ کے  پی حکومت کے ترجمان کا بیان  دیکھیں، پچھلے  اور موجودہ  وزیر اعلیٰ  کے پی  دہشت گردی پر یہی  موقف رکھتے  تھے، ان کا سارا زور صرف ایک شخص  کی رہائی پر ہی ہے۔ پی ٹی آئی  کو چاہیے کہ اگلی میٹنگ ہو تو  شرکت کرے تاکہ  دہشت گردی کیخلاف  سنجیدہ کوشش کی جائے۔

اُن کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی سہیل آفریدی نظر آئیں کہ وہ دہشت گردی کیخلاف اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے  کہا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں  اپنا کردار ادا کریں،  کے پی  دہشت گردی کیخلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہو مگر ابھی وزیراعلیٰ کا سار فوکس  روڑے اٹکانا  ہے کیونکہ اسی میں ان کے سیاسی مقاصد ہیں۔ 
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دہشت گردی کیخلاف جنگ کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی قومی اسمبلی صرف اور صرف بلال اظہر نے کہا کہ کیانی نے انہوں نے بات چیت

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار