اسلام آباد:

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومتی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران اسکول این جی اوز کو دے رہے ہیں اور مدارس اپنے قبضے میں لینا چاہتے ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دارالعلوم زکریا ترنول میں خدمات مدارس دینیہ اور دستار فضیلت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سیاست کو اضافی چیز سمجھتے ہیں وجہ یہ ہے کہ اس پر دنیا میں ان حکمرانوں کا قبضہ ہے جو فاسق و فاجر ہیں۔

حکمرانوں کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ تم اپنے اسکول نہیں چلا سکتے، یہ لوگ چالاکیوں کے ذریعے مناصب حاصل کرتے ہیں، حکمران اسکول این جی اوز کو دے رہے ہو اور مدارس کو اپنے قبضے میں لینا چاہتے ہو، پی  آئی اے کو نجی شعبے میں دے رہے ہیں اور مدرسے کو اپنی تحویل میں لیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں علما کو  25 ہزار دیے جارہے ہیں، آپ کی محبت کا شکریہ لیکن 25 ہزار کے لیے جو شرائط رکھی گئی ہیں، اس میں بیوی کا نام، امام صاحب کا  قد اور آنکھوں کا رنگ پوچھا جاتا ہے، جب میں نے کہہ دیا کہ آپ کے منہ پر مارتے ہیں تو اس پر ناراض ہو گئے ۔ 

ان کا کہنا تھا کہ مدارس کو اپنے زیر نگین کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، حکمرانوں سن لو ہم ابھی زندہ ہیں تمھارا باپ بھی یہ کام نہیں کرسکتا، حکمرانوں سے کہتا ہوں کہ اپنے آپ کو خراب نہ کرو ۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مدارس اسلام کے قلعے ہیں اور آپ کی پشت پر 250 سال کی تاریخ ہے، ہم نے اس کی روشنی میں چلنا ہے، آج کل تفرقہ بازی کی بہت تعریف ہوتی ہے، کوئی اسکالر اٹھتا ہے اور دین کی تعبیر وہ کرتا ہے جو مغرب کے لیے قابل ہو ، ایسے لوگ تفرقوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہو۔

انہوں نے کہا کہ تمہارے پاس نہ سند ہے، نہ استاد ہے، گھر میں کتابیں پڑھ کر اگر کوئی ڈاکٹر نہیں بن سکتا تو عالم کیسے بن سکتا ہے، یہ انگریز کے پیروکار ہیں جو لڑاؤ اور حکومت کرو ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ رہے ہیں دے رہے

پڑھیں:

کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار  تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا  تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک