تحریک تحفظ آئین پاکستان کی نواز شریف کو ساتھ چلنے کی دعوت
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور:اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو موجودہ سیاسی جدوجہد میں ساتھ مل کر چلنے کی باضابطہ دعوت دے دی ہے۔
تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی رہائش گاہ زمان پارک کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے تحریک کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ نواز شریف ماضی میں اسی جی ٹی روڈ کے ذریعے ریلی کی صورت میں لاہور آئے تھے اور ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بلند کیا تھا، اب وقت آ گیا ہے کہ وہ ایک بار پھر اسی موقف کو تقویت دیں۔
محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ اگر تمام جمہوری قوتیں متحد ہو جائیں اور آئین کی بالادستی کے لیے ایک پلیٹ فارم پر آ جائیں تو نہ صرف عمران خان جیل سے باہر آئیں گے بلکہ ملک سیاسی استحکام کی طرف بھی بڑھے گا۔ انہوں نے پولیس اور دیگر ریاستی اداروں سے اپیل کی کہ وہ آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے فرائض انجام دیں اور غیر آئینی احکامات ماننے سے گریز کریں۔
اپوزیشن اتحاد کے سربراہ نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کسی ایک جماعت کے لیے نہیں بلکہ پورے نظام میں موجود ناانصافی اور ظلم کے خاتمے کے لیے میدان میں نکلی ہے، آج ملک میں سرمایہ دار عدم تحفظ کے باعث سرمایہ باہر لے جا رہا ہے جبکہ غریب طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ 8 فروری کو ملک گیر شٹر ڈاؤن اور احتجاجی اقدامات کیے جائیں گے اور حقیقی مذاکرات اسی وقت ممکن ہوں گے جب آئین کی بالادستی کو تسلیم کیا جائے گا۔
پریس کانفرنس کے دوران محمود خان اچکزئی نے صاف اور شفاف انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جسے عوام قانون کے مطابق منتخب کریں، حکمرانی کا حق بھی اسی کو ملنا چاہیے۔ اس موقع پر سینیٹر علامہ راجا ناصر عباس اور دیگر اپوزیشن رہنما بھی موجود تھے۔
اس سے قبل اپوزیشن رہنماؤں اور پی ٹی آئی کے کارکنان کا قافلہ زمان پارک پہنچا، تاہم متعدد مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے الزام عائد کیا کہ راستے میں کئی کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا جو جمہوری حق رائے دہی اور سیاسی سرگرمیوں کے خلاف ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔