data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر) وفاقی وزیر برائے میری ٹائم افیئرز جنید انور چوہدری نے کہا ہے کہ مقامی صنعتکار اور سرمایہ کار کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے ساتھ شراکت داری میں پروجیکٹ کر سکتے ہیں۔ کاٹی کے صنعتکار یکجا ہوکر کنسورشیم قائم کرکے فش پروسیسنگ پلانٹس لگا سکتے ہیں۔ اس سال 25 ہزار ٹن ٹونا مچھلی کا برآمدی آرڈر موجود ہے۔ کے پی ٹی کی 180 ایکڑ کی زمین قبضہ مافیا سے واگزار کرایا جا چکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) میں صنعتکاروں اور ممبران سے خطاب میں کیا۔ اس موقع پر کاٹی کے صدر محمد اکرام راجپوت، ایکٹنگ پیٹرن ان چیف زبیر چھایا، سینئر نائب صدر اور قائمہ کمیٹی کے چیئرمین زاہدحمید، نائب صدر طلحہٰ علی، سی ای او کائیٹ سلیم الزماں، سابق چیئرمین و صدور جنید نقی، شیخ عمر ریحان، سید فرخ مظہر، راشد صدیقی، کے پی ٹی کے چیئرمین ریئرایڈمرل (ر) شاہد احمد، کنورقطب الدین سمیت دیگر صنعتکار و ممبران موجود تھے۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستان کو خوشحال اور ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ میری ٹائم کی وزارت سنبھالتے ہی سب سے پہلے کے پی ٹی کی وسیع و عریض زمین پر تجاوزات کے لیے بلا تفریق کارروائیاں کی، اب اس زمین پر ترقیاتی منصوبے، پروجیکٹس، اور مختلف پلانٹس لگائے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت میری ٹائم اپنی مدد آپ کے تحت نئے منصوبوں کا آغاز کر سکتی ہے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کی بزنس کمیونٹی ان مواقعوں سے فائدہ اٹھائیں، حکومت جن منصوبوں کی اگر 10 روپے کمائے گی تو بزنس کمیونٹی ان منصوبوں سے 80 روپے کما سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وزارت میری ٹائم کے دروازے بزنس کمیونٹی کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں۔ جنید انور چوہدری نے مزید کہا کہ کاٹی کے صنعتکار اور سرمایہ کار ا س موقع سے فائدہ اٹھائیں ساتھ ہی کاٹی کے پاس اس سے بہتر تجویز ہو تو اس پر بھی بھرپور تعاون کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی بلیو اکنامی سے فائدہ اٹھانے کے لیے جو بھی منصوبہ تجویز کرے گی اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سیکرٹری میری ٹائم یا چیئرمین کے پی ٹی نہیں بلکہ بطور وفاقی وزیر اس کے لیے ذاتی طور پر کوششیں کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے زیر التوا فیری سروس کے لیے لائسنس جاری کیے ہیں۔ پاکستان سے فیری سروس شروع کرنے میں ایران اور یمن دلچسپی لے رہے ہیں اور پہلی دفعہ 7 دن کے اندر لائسنس جاری کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلیو اکنامی کی بہتری وزارت میری ٹائم کی اولین ترجیح ہے۔ فشریز کے شعبے کی بحالی کے لیے موثر اقدامات کر رہے ہیں۔ قبل ازیں کاٹی کے صدر محمد اکرام راجپوت نے کہا کہ پاکستان کا محل وقوع ایشیا، یورپ اور افریقہ کے درمیان ایک اہم مقام پر ہے، جو اسے بین الاقوامی تجارت اور سمندری سرگرمیوں کے لیے ایک اہم مرکز بناتا ہے۔ پاکستان کی دو بڑی گہرے پانی کی بندرگاہیں کراچی پورٹ اور گوادر پورٹ ہیں جن کی گہرائی اتنی ہے کہ بڑے سے بڑے بحری جہاز یہاں ہینڈل کیے جاسکتے ہیں یہ سہولت دنیا میں دیگر بندرگاہوں کے پا س نہیں۔ بلیو اکانومی معیشت کی ترقی، روزگار کی فراہمی، غذائی تحفظ اور ماحولیاتی پائیداری کا ایک جامع ماڈل پیش کرتی ہے۔ اگر ہم دانشمندانہ منصوبہ بندی اور پائیدار حکمتِ عملی کے ساتھ سمندری وسائل کو بروئے کار لائیں تو بلیو اکانومی نہ صرف موجودہ بلکہ مستقبل کی نسلوں کے لیے بھی خوشحالی کی ضمانت بن سکتی ہے۔اکرام راجپوت نے کہا کہ اس کے ساتھ پاکستان میں ایک اہم صنعت فشریز کی بھی ہے، جو روزگار اور آمدنی کے مواقع فراہم کرتی ہے،لیکن بدقسمتی سے عالمی منڈی میں کچھ ممالک کی طرف سے پاکستانی سی فوڈ پر کمپلائنس نہ ہونے کی وجہ سے پابندی ہے، اگر حکومت اور اسٹیک ہولڈرز ان پابندیوں کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کریں تو فشریز کے شعبہ سے با آسانی ایک ارب ڈالر سے زائد کی تجارت ممکن ہے۔ صدر کاٹی نے کہا کہ پاکستان کے سمندری علاقوں میں تیل اور گیس کے ذخائر موجود ہیں، جو ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔اس کے لیے حکومت ایکسپلوریشن کے منصوبے تیار کرے جس سے ان ذخائر کو دریافت کرکے معاشی فوائد حاصل کیے جائیں۔ ایکٹنگ پیٹرن ان چیف زبیر چھایا نے کہا کہ وزارتِ میری ٹائم افیئرز صنعت و تجارت کے فروغ کے لیے نجی شعبے کے ساتھ قریبی اشتراک اور تعاون کو اپنی اولین ترجیح بنائے۔ کورنگی کے صنعتکاروں کو درپیش مسائل، خصوصاً لاجسٹکس، برآمدی لاگت اور پورٹ آپریشنز سے متعلق رکاوٹوں کے حل کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ پالیسی سازی مشاورت، اعتماد اور شراکت داری کی بنیاد پر کی جائے۔زبیر چھایا نے مزید کہا کہ پاکستان کی پائیدار صنعتی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب حکومت اور نجی شعبہ مل کر ایک مشترکہ وژن کے تحت کام کریں۔انہوں نے کہا کہ کاٹی کے صنعتکار وں کا ایک وفد کے پی ٹی کی مشاورت سے نئے منصوبوں اور نئے پروجیکٹس کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کرے گا۔ زبیر چھایا نے کہا کہ دنیا میں پاکستانی سی فوڈ کے فروغ اور برآمدات میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے حکومت اور اسٹیک ہولڈرز مشترکہ اقدامات کریں۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین اور سینئر نائب صدر زاہد حمید نے کہا کہ بندرگاہوں کی ڈیجیٹلائزیشن اور کارگو ہینڈلنگ کی سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ صنعتکاروں کو عالمی منڈیوں تک آسان، تیز اور کم لاگت رسائی حاصل ہو۔انہوں نے کہا کہ بلیو اکانومی سے سمندری وسائل کا ایسا استعمال نہایت اہم ہے جو معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ ماحول کے تحفظ کو بھی یقینی بنانے میں کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔زاہد حمید نے کہا کہ پاکستان ایک خوش قسمت ملک ہے جسے قدرت نے تقریباً 1000 کلو میٹر سے زائد ساحلی پٹی اور قیمتی سمندری وسائل سے نوازا ہے۔ اگر ہم ان وسائل کو درست منصوبہ بندی کے تحت استعمال کریں تو ماہی گیری، سمندری تجارت، سیاحت اور توانائی کے شعبوں میں نمایاں ترقی ممکن ہے۔تقریب سے کے پی ٹی کے چیئرمین ریئرایڈمرل (ر) شاہد احمد، شیخ عمر ریحان اور مسلم محمدی نے بھی خطاب کیا۔

کامرس رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کہا کہ پاکستان ٹی کے چیئرمین بزنس کمیونٹی زبیر چھایا میری ٹائم سکتے ہیں کے پی ٹی کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ