سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کی امریکی حکام سے ملاقاتیں
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ریاض(انٹرنیشنل ڈیسک) سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اپنے ہم منصب مارکو روبیو سمیت واشنگٹن میں کئی اعلیٰ امریکی حکام کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ ان کی وائٹ ہاؤس کی خارجہ امور کمیٹی کے ارکان کے ساتھ بھی ملاقات ہوئی ہے اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ اس کمیٹی کے سربراہ بریان ماست ہیں جبکہ اس کے رکن گیگوری میکس بھی ملاقات میں شامل تھے۔سعودی وزیر خارجہ نے اس موقع پر کہا مارکو روبیو کے ساتھ مل کر دونوں ملکوں کے تاریخی تزویراتی تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر بات چیت کی۔ملاقات کے بعد جاری کیے گئے بیان کے مطابق سعودی عرب کے گردو پیش میں پھیلے مسائل اور علاقے کی تازہ صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔امریکی دفتر خارجہ کے نائب ترجمان ٹامی پگاٹ کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان جاری تعلقات، معاہدات اور کو مستحکم کرنے اور آگے بڑھانے پر بھی بات چیت کی گئی، تاکہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور صدر ٹرمپ کی نومبر 2025 میں وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے تحت پیش رفت کی جا سکے۔دونوں وزرائے خارجہ نے مشرق وسطیٰ کے لیے مشترکہ کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے بات چیت کی تاکہ یمن اور سوڈان میں جنگ بندی کی کوششیں آگے بڑھ سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔