data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ریاض(انٹرنیشنل ڈیسک) سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اپنے ہم منصب مارکو روبیو سمیت واشنگٹن میں کئی اعلیٰ امریکی حکام کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ ان کی وائٹ ہاؤس کی خارجہ امور کمیٹی کے ارکان کے ساتھ بھی ملاقات ہوئی ہے اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ اس کمیٹی کے سربراہ بریان ماست ہیں جبکہ اس کے رکن گیگوری میکس بھی ملاقات میں شامل تھے۔سعودی وزیر خارجہ نے اس موقع پر کہا مارکو روبیو کے ساتھ مل کر دونوں ملکوں کے تاریخی تزویراتی تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر بات چیت کی۔ملاقات کے بعد جاری کیے گئے بیان کے مطابق سعودی عرب کے گردو پیش میں پھیلے مسائل اور علاقے کی تازہ صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔امریکی دفتر خارجہ کے نائب ترجمان ٹامی پگاٹ کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان جاری تعلقات، معاہدات اور کو مستحکم کرنے اور آگے بڑھانے پر بھی بات چیت کی گئی، تاکہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور صدر ٹرمپ کی نومبر 2025 میں وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے تحت پیش رفت کی جا سکے۔دونوں وزرائے خارجہ نے مشرق وسطیٰ کے لیے مشترکہ کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے بات چیت کی تاکہ یمن اور سوڈان میں جنگ بندی کی کوششیں آگے بڑھ سکیں۔

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل