Juraat:
2026-06-03@02:30:03 GMT

کردار برا ہوتاہے انسان نہیں

اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT

کردار برا ہوتاہے انسان نہیں

٧٨٦
تحریر :آفتاب احمد خانزادہ

Stanford Prison Experiment تاریخ کے متنازعہ ترین تجربات میں سے ایک ہے یہ تجربہ 1971 میں امریکی ماہر نفسیات فلپ زیمبارڈو (Philip Zimbardo) نے کیا، جسے ”اسٹینفورڈ پرزن ایکسپریمنٹ” کہا جاتا ہے۔ یہ سماجی نفسیات کا ایک مشہور لیکن بہت متنازعہ مطالعہ ہے۔ زیمبارڈو نے صحت مند اور نفسیاتی طور پر نارمل کالج کے طلبہ کے ایک گروپ کو رینڈم طور پر دو گروپوں میں تقسیم کیا ایک گروپ قیدیوں کا اور دوسرا جیل کے گارڈز کا۔ یہ تجربہ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی عمارت کے بیسمنٹ میں ایک نقلی جیل میں کیا گیا۔تجربے کو حقیقت پسندانہ بنانے کے لیے، ”قیدیوں” کو گھروں سے گرفتار کرنے کا ڈرامہ کیا گیا۔ اصل پولیس کی مدد سے انہیں ہتھکڑیاں لگا کر لایا گیا، ان کی تلاشی لی گئی، اور انہیں جیل کے کپڑے پہنائے گئے۔ گارڈز کو یونیفارم، لاٹھی اور سنگلاسز دیے گئے۔تجربے کا بنیادی اصول یہ تھا کہ گارڈز کو قیدیوں پر مکمل کنٹرول دیا جائے، لیکن جسمانی تشدد کی اجازت نہیں تھی۔ البتہ، گارڈز کو ہدایت کی گئی کہ وہ قیدیوں میں بے بسی، خوف اور طاقت کا عدم توازن پیدا کریں۔ کوئی سخت اصول نہیں تھے، صرف جیل کا ماحول برقرار رکھنا تھا۔نتیجہ واقعی تباہ کن نکلا صرف چند دنوں میں گارڈز ظالمانہ اور تشدد آمیز رویہ اختیار کر گئے، جبکہ قیدی شدید ذہنی تناؤ، افسردگی اور بغاوت کی طرف بڑھ گئے۔ زیمبارڈو خود تجربے کے ”جیل سپرنٹنڈنٹ” بن گئے تھے اور وہ بھی اس ماحول میں گم ہو گئے۔ تجربہ، جو دو ہفتوں کا ہونا تھا، صرف 6 دن بعد بند کرنا پڑا کیونکہ حالات خطرناک حد تک بگڑ گئے تھے۔یہ مطالعہ سائنسی اور اخلاقی طور پر بہت متنازعہ رہا ہے۔ اس نے اخلاقیات کی بحث چھیڑ دی کہ کیا ایسے تجربات انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ آج کل اس کی کچھ تنقیدیں بھی ہیں کہ شاید زیمبارڈو نے گارڈز کو غیر واضح طور پر سخت رویہ اپنانے کی طرف راغب کیا، اور نتائج مکمل طور پر حالات کی وجہ سے نہیں بلکہ توقعات کی وجہ سے بھی ہوئے۔اس تجربے سے ایک اہم نتیجہ یہ اخذ کیا گیا جو سماجی نفسیات میں اب بھی پڑھایا جاتا ہے”مطلق اختیار (یا حالات کی طاقت) عام انسانوں میں بدترین رویوں کو سامنے لا سکتا ہے”۔یعنی، برائی اکثر لوگوں کی ذاتی شخصیت میں نہیں بلکہ حالات اور کردار (Roles) کی طاقت میں ہوتی ہے۔برائی کہاں رہتی ہے انسان میں یا حالات میں کہتے ہیں کہ انسان فطرتاً برا نہیں ہوتا، مگر تاریخ کی عدالت میں کھڑے ہو کر انسان ہمیشہ مجرم ثابت ہوا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ برائی ہے یا نہیں ،سوال یہ ہے کہ وہ کہاں رہتی ہے انسان کے اندر یا اُن حالات کے اندر جو اسے وہ”کردار”عطا کرتے ہیں جن کے پیچھے چھپ کر وہ خود کو معصوم سمجھنے لگتا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ ماننے میں سہولت محسوس کی کہ”فلاں شخص برا تھا” گویا ظلم، ناانصافی، قتل، جھوٹ اور جبر چند مخصوص چہروں کی ذاتی خرابی تھی۔ مگر سماجی نفسیات، فلسفہ اور تاریخ ہمیں ایک تلخ سچ بتاتے ہیں برائی زیادہ تر فرد میں نہیں، اُس کردار میں ہوتی ہے جو اسے دیا جاتا ہے، اور اُن حالات میں ہوتی ہے جو اسے نیک یا بد بننے کا راستہ نہیں بلکہ سمت دیتے ہیں۔ ہنہ آرنٹ نے ایڈولف آئخمان کے مقدمے کے بعد”The Banality of Evil”کا تصور پیش کیا وہی عام سا آدمی، بے رنگ چہرہ، کوئی درندہ نہیں، کوئی شیطان نہیں مگر اُس نے ہولوکاسٹ جیسے عذاب کو کاغذی فائلوں میں”ڈیوٹی”بنا دیا۔ برائی اس کے چہرے پر نہیں تھی، اُس کے عہدے میں تھی۔ اُس کے ہاتھ میں نہیں تھی، اُس کے دستخطی اختیار میں تھی۔فلپ زیمبارڈو کے اسٹینفورڈ پرزن ایکسپریمنٹ نے دکھایا کہ کیسے عام، صحت مند، مہذب نوجوان چند دنوں میں جیل کے”گارڈ”بن کر ظالم ہو گئے ۔کیونکہ ان کے سامنے ایک آئینہ رکھ دیا گیا تھا”تم اب طاقت ہو، تم اب قانون ہو، تم اب اختیار ہو۔”انسان وہی رہتا ہے کردار بدلتا ہے، اور اس کے ساتھ اخلاق بھی۔پاکستانی سماج میں یہ سوال اور بھی سنگین ہو جاتا ہے۔ یہاں ہم فرد کو برا کہتے ہیں، مگر اُس نظام کو معصوم سمجھتے ہیں جو اسے جنم دیتا ہے۔ ہم ایک تھانیدار کو کوستے ہیں، مگر اُس تھانے کے ڈھانچے پر خاموش رہتے ہیں۔ ہم ایک جج کے فیصلے پر لعنت بھیجتے ہیں، مگر اُس قانون پر نہیں جو اسے طاقت دیتا ہے۔ ہم ایک افسر کی کرپشن پر چیختے ہیں، مگر اُس نوآبادیاتی ذہنیت پر نہیں جو”اختیار”کو”حق”بنا کر دیتی ہے۔یہاں برائی شخص میں نہیں، کرسی میں ہے۔یہاں گناہ انسان میں نہیں، عہدے میں ہے۔یہاں ظلم نیت میں نہیں، نظام میں ہے۔ایک باپ جب گھر میں ظالم بنتا ہے تو وہ صرف مرد نہیں ہوتا وہ ایک”سرپرست”کا کردار ادا کر رہا ہوتا ہے جسے سماج نے مطلق طاقت دے رکھی ہے۔ ایک استاد جب طالب علم کی تذلیل کرتا ہے تو وہ صرف بدتمیز نہیں وہ ایک ایسے تعلیمی ڈھانچے کا پرزہ ہے جہاں خوف کو نظم و ضبط کا نام دیا گیا ہے۔ایک افسر جب شہری کو کچلتا ہے تو وہ صرف مغرور نہیں وہ اُس ریاستی کردار میں داخل ہو چکا ہے جہاں قانون نہیں، اختیار بولتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں برائی مسلسل زندہ رہتی ہے کیونکہ ہم افراد بدلتے ہیں، مگر کردار وہی رہتے ہیں۔ہم چہرے بدلتے ہیں، نظام نہیں۔فلسفی نطشے نے کہا تھا”جو طویل عرصے تک درندے سے لڑتا ہے، وہ خود درندہ بننے لگتا ہے۔”مگر ہم اس سے بھی آگے جا چکے ہیں یہاں انسان کو لڑنے کی ضرورت ہی نہیں، یہاں اسے صرف کردار پہنایا جاتا ہے۔اصل سوال یہ نہیں کہ”ہم میں برائی کیوں ہے”اصل سوال یہ ہے کہ”ہم نے ایسے کردار کیوں بنائے جن میں برائی کا لائسنس شامل ہے”جب تک ہم نظام کو نہیں بدلیں گے، جب تک ہم طاقت کو جواب دہ نہیں بنائیں گے، جب تک ہم کرسی کو مقدس سمجھتے رہیں گے ۔ تب تک برائی کو نئے چہرے ملتے رہیں گے۔اور پھر ہم ہمیشہ یہی کہتے رہیں گے”فلاں شخص برا تھا”حالانکہ سچ یہ ہوگاکردار برا تھا انسان نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: میں نہیں گارڈز کو سوال یہ جاتا ہے ہیں کہ

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟