کوئٹہ: صوبائی کابینہ کا 21 واں اجلاس، الیکٹرک بائیکس اور ہیلتھ انشورنس اسکیم سمیت اہم فیصلے
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 21 واں اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کی سماجی اور معاشی ترقی سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں وزیراعظم پاکستان کی جانب سے بلوچستان میں مواصلاتی اور تعلیمی منصوبوں کے آغاز پر صوبائی کابینہ نے اظہارِ تشکر کیا۔
عام شہریوں کے لیے الیکٹرک بائیکس اسکیماجلاس میں عام شہریوں کے لیے الیکٹرک بائیکس اسکیم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس اسکیم کے تحت طلبہ، ورکنگ ویمن اور سرکاری ملازمین کو 30 فیصد سبسڈی پر الیکٹرک بائیکس فراہم کی جائیں گی، جبکہ دیگر شہریوں کو بھی آسان اقساط کے ذریعے یہ سہولت دی جائے گی۔
کابینہ نے فیصلہ کیا کہ اسکیم پر عملدرآمد بینک فنانسنگ کے تحت کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔
سرکاری ملازمین کے لیے ہیلتھ انشورنس اسکیماجلاس کے دوران بتایا گیا کہ صوبے کے تقریباً ڈھائی لاکھ سرکاری ملازمین کے علاج معالجے پر سالانہ 6 سے 7 ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے جامع ہیلتھ انشورنس اسکیم متعارف کرانے کا اصولی فیصلہ کیا۔
اس کے ساتھ ساتھ پیشگی میڈیکل ادائیگیوں اور عوامی انڈومنٹ فنڈ کے آڈٹ کی بھی منظوری دی گئی۔
انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ پروگرام میں توسیعصوبائی کابینہ نے نوجوانوں کو روزگار اور معاشی استحکام فراہم کرنے کے لیے انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ پروگرام کو گوادر، کیچ اور آواران تک توسیع دینے کی بھی منظوری دی۔
تمام تعیناتیاں میرٹ پر کرنے کا فیصلہاجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ صوبے میں تمام سرکاری تعیناتیاں خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں گی تاکہ گڈ گورننس کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ کا خطاب: عوامی وسائل امانت ہیںاجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں مواصلاتی اور تعلیمی منصوبوں میں تعاون پر وزیراعظم پاکستان کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرک بائیکس اسکیم سے معاشرے کے تمام طبقات کو آسان اقساط پر فائدہ پہنچے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا ’عام آدمی کے ٹیکس سے حاصل ہونے والے وسائل عوام کی امانت ہیں، یہ ناانصافی ہے کہ بلوچستان کا غریب شہری مشکلات برداشت کرے جبکہ وسائل کا بڑا حصہ مخصوص طبقے پر خرچ ہو۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ گڈ گورننس کا قیام میرٹوکریسی سے مشروط ہے اور صوبائی کابینہ نے میرٹ کے فروغ کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے، جس پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الیکٹرک بائیکس سرکاری ملازمین صوبائی کابینہ کابینہ نے کے لیے
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔