WE News:
2026-06-03@02:53:53 GMT

بحر اسود میں روس جانے والے بحری ٹینکر پر ڈرون حملہ

اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT

بحر اسود میں روس جانے والے بحری ٹینکر پر ڈرون حملہ

بحر اسود میں ایک تیل لے جانے والا ٹینکر جو روس کے پورٹ نووروسییسک جا رہا تھا، پر ڈرون سے حملہ کیا گیا ہے۔ یہ ٹینکر ترکیہ کے ساحل سے قریباً 30 بحری میل کے فاصلے پر تھا۔

مزید پڑھیں: صدر زرداری کا روسی صدر کی رہائشگاہ پر ڈرون حملے پر تشویش کا اظہار

ترکی کے کوسٹ گارڈ نے جہاز سے ہنگامی کال وصول کی اور اسے ساحل تک محفوظ پہنچایا۔ جہاز کے اوپری حصے کو نقصان پہنچا، لیکن کوئی جانی نقصان یا ماحولیاتی آلودگی نہیں ہوئی۔

Russia-bound tanker attacked in Black Sea – media
A drone has reportedly targeted the vessel end route to the port of Novorossiysk.

@AmirSaeedAbbasi pic.twitter.com/Oyn4Th7nKo

— Media Talk (@mediatalk922) January 9, 2026

خبروں کے مطابق نومبر کے بعد سے کم از کم 5 روسی ٹریڈنگ ٹینکرز پر یوکرائنی ڈرون حملے ہوئے ہیں۔ یہ ٹینکر پہلے ہی روس پر مغربی ممالک کی پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزام میں نشانہ بن چکے تھے۔

مزید پڑھیں: امریکی بحریہ کا ایرانی ڈرون کی نقل ’لوکس‘ کا کامیاب تجربہ

روس اور ترکی دونوں نے اس حملے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ یہ حملے ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہیں، جبکہ ترکی نے کہا کہ یہ واقعات نیویگیشن اور ماحول کے لیے خطرہ ہیں۔

یوکرین نے ابھی تک ذمہ داری قبول نہیں کی، لیکن میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حملے یوکرین کی سیکیورٹی سروس (SBU) کی طرف سے کیے گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بحر اسود بحری ٹینکر جہاز ترکیہ ڈرون ڈرون حملہ روس

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بحری ٹینکر جہاز ترکیہ ڈرون حملہ

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟