اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی پر سوشل میڈیا کی غلط مہم، سی ڈی اے نے مؤقف واضح کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) نے کہا ہے کہ شہر میں درختوں کی کٹائی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبریں گمراہ کن ہیں۔ سی ڈی اے نے اپنے اقدامات کو ماحول دوست اور ہدفی قرار دیا ہے، اور شہریوں کو یقین دلایا ہے کہ یہ منصوبہ طویل مدتی سبز احاطے کے لیے ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں پرانے درخت اکھاڑ کر پام کے درخت لگانے پر صارفین برہم، ویڈیو وائرل
سی ڈی اے کے مطابق اسلام آباد میں صرف invasive paper mulberry کے درخت ہٹائے جا رہے ہیں، جو موسم بہار میں تقریبا 37 فیصد شہریوں کے لیے پولن الرجی کا سبب بنتے ہیں۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق ان کی جگہ مقامی نوعیت کے درخت لگائے جا رہے ہیں۔
سی ڈی اے نے بتایا کہ اس سلسلے میں 30,000 نئے درخت لگانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جبکہ سالانہ کیمپین میں 200,000 سے زائد درخت شامل ہیں۔ NDVI (Normalized Difference Vegetation Index) کے ڈیٹا کے مطابق 2023 سے 2025 کے دوران اسلام آباد میں سبز احاطے میں 9,000 ایکڑ سے زائد کا خالص اضافہ ہوا، اور مارگلہ ہلز میں اضافے نے شہری علاقوں کے نقصانات کو پورا کر دیا ہے۔
سی ڈی اے نے تنقید کی وجہ کو غلط معلومات اور اینٹی انکروچمنٹ آپریشنز سے جوڑا ہے۔ اتھارٹی نے مزید کہا کہ وہ پارک زمین پر قبضہ ختم کرنے اور نیشنل پارکس کے تحفظ کے اقدامات بھی کر رہی ہے۔
NDVI ایک جدید ریموٹ سینسنگ ٹول ہے جو درختوں اور پودوں کی صحت اور کثافت کو سرخ اور نزدیکی انفرا ریڈ روشنی کی مدد سے ماپتا ہے، جس سے سبز احاطے کی درست پیمائش ممکن ہوتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سی ڈی اے نے
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ