چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سمیت 2 ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک شکایت سامنے آئی ہے، جس میں دونوں ججز کی تعلیمی قابلیت، اہلیت اور انتظامی امور میں کردار پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس ابہر گل خان بطور جج اپنے عہدوں پر فائز رہنے کے اہل نہیں، لہٰذا سپریم جوڈیشل کونسل دونوں ججز کی تعلیمی اسناد اور مجموعی اہلیت کا تفصیلی جائزہ لے۔

یہ بھی پڑھیں: جج کے بیٹے کا کار ایکسیڈنٹ و ہلاکتیں: والد کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں نااہلی کا ریفرنس دائر

شکایت کنندگان کے مطابق جسٹس ابہر گل خان کی تعلیمی ڈگری درست نہیں، اس لیے ان کا مکمل تعلیمی ریکارڈ طلب کر کے جانچ پڑتال کی جائے، خصوصاً بطور مستقل جج کنفرم کیے جانے سے قبل ان کی ڈگریوں کی تصدیق کی جائے۔

شکایت میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ لاہور میں خواتین ڈسٹرکٹ ججز کو دانستہ طور پر ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور انہیں دور دراز علاقوں میں ٹرانسفر کیا جا رہا ہے، جس سے ان کی ذاتی اور خاندانی زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

مزید پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ کے 4 ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت دائر

اس ضمن میں چیف جسٹس عالیہ نیلم پر ضلعی عدالتوں کے معاملات میں مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان کے کردار کا بھی باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔

یہ شکایت متاثرہ خواتین ججز اور دیگر جوڈیشل افسران کے والدین کی جانب سے دائر کی گئی ہے، تاہم انہوں نے تحفظ کے خدشات کے باعث فی الحال اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔

شکایت میں سپریم جوڈیشل کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر الزامات درست ثابت ہوں تو چیف جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس ابہر گل خان کو ان کے عہدوں سے برخاست کیا جائے تاکہ عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

تعلیمی ڈگری جسٹس ابہر گل خان جسٹس عالیہ نیلم چیف جسٹس ڈسٹرکٹ ججز سپریم جوڈیشل کونسل لاہور.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: تعلیمی ڈگری جسٹس ابہر گل خان جسٹس عالیہ نیلم چیف جسٹس ڈسٹرکٹ ججز سپریم جوڈیشل کونسل لاہور سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس ابہر گل خان جسٹس عالیہ نیلم کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری