پرانی چوٹیں موسم بدلتے ہی کیوں درد دینے لگتی ہیں؟ ماہرین کی وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اکثر افراد محسوس کرتے ہیں کہ پرانی چوٹیں، چاہے وہ موچ، ہڈی کا ٹوٹنا یا جوڑوں کا درد ہوں، وقتی طور پر ٹھیک ہو جاتی ہیں، مگر موسم کی تبدیلی یا جسمانی دباؤ بڑھنے پر وہی درد دوبارہ لوٹ آتا ہے، یہ رجحان بظاہر وہم لگتا ہے، لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ اس کے پیچھے ایک سائنسی حقیقت چھپی ہوتی ہے جسے ڈاکٹرز ’بون میموری‘ یعنی ہڈی کی یادداشت کہتے ہیں۔
جب کسی جوڑ یا ہڈی میں چوٹ لگتی ہے، تو جسم فوری طور پر اس کی مرمت کا عمل شروع کر دیتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ زخم بھر جاتا ہے اور درد کم ہو جاتا ہے، جس سے انسان معمول کی زندگی گزارنے لگتا ہے، مگر اندرونی سطح پر جوڑ یا ہڈی اپنی اصل مضبوطی حاصل نہیں کر پاتی۔ اعصاب اور ٹشوز اس چوٹ کو یاد رکھ لیتے ہیں، جس کی وجہ سے سالوں بعد بھی وہ حصہ حساس رہتا ہے اور معمولی دباؤ یا حرکت پر درد پیدا ہو جاتا ہے۔
چوٹ کے دوران متاثرہ جوڑ کے اعصاب زیادہ حساس ہو جاتے ہیں، اور زخم بھرنے کے بعد بھی معمولی تحریک پر درد کے سگنل بھیجتے ہیں۔ اس کے علاوہ جوڑ یا ہڈی کی نرم تہہ مکمل طور پر مضبوط نہیں ہوتی، جس سے وہاں سخت ٹشو بن سکتا ہے اور جوڑ کی حرکت متاثر ہو جاتی ہے۔ پٹھے کمزور ہو جانا یا جوڑ کو سہارا دینے والے حصے ڈھیلے رہ جانا بھی اس مسئلے کو بڑھاتا ہے، جس سے درد بار بار ظاہر ہوتا ہے۔
یہ مسئلہ خاص طور پر شدید چوٹیں لگنے والے افراد، گھٹنے، کولہے یا ٹخنے کی چوٹیں، یا عمر رسیدہ افراد میں زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ شوگر، گٹھیا اور کمزور صحت رکھنے والے افراد میں بھی پرانی چوٹ کے اثرات طویل عرصے تک برقرار رہ سکتے ہیں، خاص طور پر اگر مکمل فزیوتھراپی نہ کروائی گئی ہو۔
ماہرین کے مطابق ’بون میموری‘ کی صورت میں جوڑ میں اکڑن، ہلکا مگر مستقل درد، چلتے وقت آواز آنا، کمزوری یا عدم توازن معمول کی بات ہے۔ سرد موسم، نمی یا موسم کی تبدیلی کے دوران یہ علامات اور شدید ہو سکتی ہیں۔
اس طرح کے مسائل کو نظر انداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ بروقت آرتھوپیڈک ماہر سے رجوع کرنا ضروری ہے تاکہ جوڑ کی صحت متاثر نہ ہو اور پیچیدگی پیدا نہ ہو۔ علاج میں عموماً فزیوتھراپی، درد کم کرنے والی دوائیں، وزن کا کنٹرول اور روزمرہ کی سرگرمیوں میں احتیاط شامل ہوتی ہے۔ بعض پیچیدہ صورتوں میں سرجری یا دیگر طبی اقدامات بھی ضروری ہو سکتے ہیں۔
ماہرین زور دیتے ہیں کہ چوٹ کے بعد مکمل اور درست طریقے سے صحت یابی کے مراحل پورے کیے جائیں۔ جسم کے اشاروں کو سمجھنا، درد کو نظر انداز نہ کرنا اور ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے تاکہ جوڑ طویل عرصے تک صحت مند رہیں اور زندگی متحرک انداز میں گزاری جا سکے۔
یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ جسم اپنی یادداشت کے ساتھ کام کرتا ہے، اور چوٹ کے اثرات ظاہری طور پر تو ختم ہو جائیں، مگر اندرونی سطح پر وہ ہمیں یاد دلاتے رہتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ انتہائی آسان
پنجاب حکومت(Punjab government) کے اپنی چھت محفوظ چھت 2026 پروگرام کے تحت 5 اور 10 لاکھ روپے کے بِلا سود قرض فراہم کیے جا رہے ہیں۔
پنجاب حکومت نے لوگوں کو اپنے موجودہ گھر کی مرمت اور توسیع کے لیے اپنی چھت، محفوظ چھت (میری چھت، محفوظ چھت) اسکیم 2026 کا آغاز کیا ہے جس کے تحت 5 سے 10 لاکھ روپے تک کے بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں گے۔
اس حکومتی منصوبے کے تحت قرض کے دو مختلف کٹیگریز میں دیے جائیں گے۔
وہ شہری جو اپنی موجودہ چھتوں کی مرمت یا گھر کے انفراسٹرکچر کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں 5 لاکھ روپے قرض دیا جائے گا جو انہیں 9 سال میں صرف 4،700 روپے ماہانہ قسط کی صورت ادا کرنا ہوگا۔
وہ شہری جو اپنے گھروں کی توسیع (دوسری منزل) کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں، انہیں 10 لاکھ روپے بلاسود قرض دیا جائے گا اور اس کی مدت واپسی بھی 9 سال ہے۔ اس قرض کی ماہانہ قسط 9،300 روپے ہوگی۔
مزیدپڑھیں:ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
آن لائن اپلائی کرنے کا طریقہ:
دلچسپی رکھنے والے شہری acag.punjab.gov.pk کے ذریعے اپنی چھت، محفوظ چھت لون سکیم کے لیے آن لائن درخواست دے سکتے ہیں۔ پروگرام کے لیے رجسٹر ہونے کے لیے انہیں اپنی اسناد داخل کرنے کی ضرورت ہے۔
درخواست دہندگان ہاتھ سے لکھی درخواست بھی جمع کرا سکتے ہیں۔
وہ لوگ کمپیوٹر استعمال نہیں کر سکتے وہ اپنی قرض کی درخواستیں ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی کے دفاتر میں جمع کرائیں۔