کارتک آریان اور ان کی مبینہ مسٹری گرل میں تعلق سے متعلق بڑا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
بالی ووڈ اداکار کارتک آریان اور ان کی مبینہ مسٹری گرل کرینا کوبیلیوٹ میں تعلق سے متعلق بڑا انکشاف ہوا ہے۔
گزشتہ دنوں کارتک آریان کے حوالے سے ایک نئی افواہ نے سوشل میڈیا پر خاصی ہلچل مچائی جس میں ان کا نام 17 سالہ برطانوی طالبہ کرینا کوبیلیوٹ کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب صارفین نے کارتک اور مبینہ طور پر کرینا کوبیلیوٹ کی جانب سے الگ الگ شیئر کی گئی ساحلِ سمندر کی تصاویر میں غیر معمولی مماثلتیں دیکھیں۔
اب بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ جنوری کے پہلے ہفتے میں کارتک آریان اور کرینا دونوں گوا کے مشہور سینٹ ریجس ہوٹل میں مقیم تھے۔
تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں نے علیحدہ علیحدہ کمرے لیے ہوئے تھے۔
اس حوالے سے ہوٹل انتظامیہ نے رازداری کی پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کسی بھی تبصرے سے انکار کردیا۔
مزید پڑھیںکارتك آریان کی 17 سالہ لڑکی سے رومانس کی افواہیں، گوا کی تصاویر وائرل
واضح رہے کہ چند دن قبل ریڈٹ پر اس وقت قیاس آرائیوں نے زور پکڑا جب کارتک اور کرینا نے انسٹاگرام اسٹوریز میں ایک ہی ساحل اور ایک جیسے تولیوں کے پس منظر کے ساتھ تصاویر شیئر کیں۔
اس کے علاوہ یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ کارتک کرینا کو انسٹاگرام پر فالو کر رہے تھے، تاہم چہ مگوئیوں کے بعد انہوں نے اسے ان فالو کردیا تھا۔
مداحوں نے مزید کھوج شروع کی تو غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئیں کہ کرینا ایک لیتھوین نژاد طالبہ ہیں جو برطانیہ میں رہتی ہیں، جبکہ ان کی عمر کے حوالے سے بھی متضاد دعوے کیے گئے۔
اس تمام بحث کے بعد کرینا کے انسٹاگرام فالوورز میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا۔
کارتک آریان کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کارتک آریان
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔