صدر ٹرمپ کا امریکی فوجی بجٹ میں 50 فیصد اضافے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
صدر ڈونلڈ ر ٹرمپ نے امریکی فوجی بجٹ کو 50 فیصد اضافے کے ساتھ 1.5 کھرب ڈالر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا ہے کہ ملک کو انتہائی مشکل اور خطرناک حالات کا سامنا ہے، اس لئے دفاعی اخراجات کو 2027 تک ایک اعشاریہ پانچ کھرب ڈالر تک کیا جائے، یہ بجٹ موجودہ 901 ارب ڈالر سے 50 فیصد زیادہ ہوگا، جس کی امریکی کانگریس نے گزشتہ سال دسمبر میں منظور ی دی تھی۔
امریکی صدر کا مؤقف ہے کہ یہ اضافہ امریکا کو ڈریم ملٹری بنانے کا موقع دے گا جو ملک کو ہر دشمن کے مقابلے میں محفوظ رکھے گی، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ دفاعی کمپنیوں کے سربراہان اور شیئر ہولڈرز کو کی جانے والی بڑی ادائیگیوں کی کڑی نگرانی بھی کی جائے گی کہ آیا یہ کمپنیاں ہتھیاروں کی ترسیل تیز کرنے کے لئے اپنے وعدے پر پورا اُتر رہی ہیں اور کیا یہ اس کام کے لئے نئے کارخانے قائم کر رہیں ہیں کہ نہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی دفاعی سازوسامان بنانے والی بڑی کمپنیوں لاک ہیڈ مارٹن، نارتھروپ گرومن اور ریتھیون کے شیئرز نیویارک میں 5 فیصد سے زیادہ بڑھ گئے ہیں، معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کے اخراجات اور آمدنی کے درمیان فرق خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔
تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت آسانی سے ایک اعشاریہ پانچ کھرب ڈالر کا بجٹ پورا کر سکتی ہے کیونکہ اسے دیگر ممالک سے درآمدات پر عائد کئے جانے والے ٹیرف سے اضافی آمدنی حاصل ہو رہی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ فوجی سازوسامان کو تیزی سے تیار نہیں کیا جا رہا اس لئے کمپنیوں کو جدید اور نئے کارخانے بنانے چاہئیں، انہوں نے دفاعی کمپنیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ بڑے پیمانے پر شیئر ہولڈرز کو ادائیگیاں درست انداز میں نہیں کر رہیں جبکہ پیداوار میں سرمایہ کاری کو بھی نظرانداز کیا جا رہاہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔