دور دراز پہاڑی علاقوں میں لاپتا پیدل چلنے والوں یا کوہ پیماؤں کی تلاش عام طور پر ہفتوں یا مہینوں لے لیتی ہے لیکن مصنوعی ذہانت یا اے آئی اب اس کام کو چند گھنٹوں میں کر سکتی ہے اور ممکنہ طور پر جانیں بھی بچا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا مصنوعی ذہانت موزوں سائز کے کپڑے خریدنے میں مدد کر سکتی ہے؟

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ستمبر 2024 میں اٹلی کے علاقے پیemonte  میں پہاڑی ریسکیو ٹیمیں ایک پہیلی کا سامنا کر رہی تھیں۔ تجربہ کار کوہ پیما اور آرتھوپیڈک سرجن نیکولا ایوالڈو لاپتا ہو گئے تھے۔ 66 سالہ ایوالڈو پیر کو کام پر حاضری نہیں ہوئے جس پر الرٹ جاری کیا گیا۔

ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ایوالڈو نے اکیلے ہی کوہ پیمائی کے لیے روانہ ہوئے تھے اور کسی کو اپنی منزل نہیں بتائی تھی۔ صرف کار کے مقام سے اندازہ لگایا گیا کہ وہ کوتیان الپس کے سب سے اہم 2 چوٹیوں میں سے کسی ایک پر جا سکتے ہیں: 3,841 میٹر بلند مونویسو یا اس کے پڑوسی 3,348 میٹر بلند ویسولٹو۔

ابتدائی تلاش میں 50 سے زیادہ ریسکیو اہلکار پیدل اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے کئی دنوں تک تلاش کرتے رہے لیکن ابتدائی برف باری کے بعد امید ختم ہو گئی اور سرچ معطل کر دی گئی۔

اے آئی نے کس طرح مدد کی

جولائی 2025 میں جب برف کافی حد تک پگھل گئی اور پیemonte  ریسکیو سروس نے اے آئی ٹیکنالوجی کو متعارف کرایا۔ ڈرونز کے ذریعے پہاڑیوں کی ہزاروں تصاویر کھینچی گئیں اور اے آئی نے انہیں صرف چند گھنٹوں میں پہچاننے کے قابل جگہوں کی نشاندہی کردی۔ 3 دن بعد اے آئی کی مدد سے ایوالڈو کی لاش ایک پہاڑی گلی میں شمالی دیوار مونویسو پر تقریباً 3,150 میٹر کی بلندی پر ملی۔

مزید پڑھیے: چین دفاعی مقاصد کے لیے مصنوعی ذہانت اور ڈیپ سیک کا استعمال کیسے کر رہا ہے؟

سیمون بوبیو، ریسکیو سروس کے ترجمان کے مطابق اہم چیز ایک سرخ ہیلمٹ تھا جسے اے آئی نے اہم مقام کے طور پر نشان زد کیا۔

اگر یہ اے آئی تجزیہ موجود نہ ہوتا تو ہو سکتا تھا ایوالڈو کو کبھی نہ ملتے۔ ڈرون کی تصاویر کے پکسل پکسل تجزیے نے وہ سرخ ہیلمٹ نمایاں کیا جس سے ریسکیو ٹیم کو درست جگہ پر پہنچنے میں مدد ملی۔

اے آئی کی تعریف

یہ پہلا موقع نہیں تھا جب اے آئی نے ریسکیو میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پولینڈ کی یونیورسٹی آف وروکلاو کے SARUAV سافٹ ویئر نے سنہ 2021 میں الزائمر کے مریض کو 14 گھنٹوں میں تلاش کیا اور بعد میں آسٹریا اور اسکات لینڈ میں بھی ایسے پروگرامز کامیابی سے استعمال ہوئے۔

مزید پڑھیں: اے آئی کلاڈ کا کمال، سال کا کام گھنٹے میں، گوگل انجینیئرنگ ٹیم بھی حیران

ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی اور ڈرونز کے امتزاج نے پہاڑی علاقوں میں انسانی جانیں بچانے کی صلاحیت میں انقلاب پیدا کیا ہے۔ جدید ٹولز و اے آئی سسٹمز، شائقین اور ریسکیو ٹیموں کو معلومات فراہم کرنے اور تجزیہ کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں جس سے انسانی جانیں محفوظ کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ڈینیئلے جیورڈان اٹلی کے تحقیقاتی ادارے آئی آر پی آئی کے سربراہ، کہتے ہیں کہ اے آئی اور ڈرونز کا صحیح استعمال زندگی بچانے میں انمول ہے اور مستقبل میں ہم چاہیں گے کہ یہ تکنیک حقیقی وقت میں تجزیہ کر کے ریسکیو ٹیموں کی رہنمائی کرے۔

یہ بھی پڑھیے: شادی کرلو ورنہ میری طرح پچھتاؤگے، چینی نوجوانوں کو ’اے آئی خواتین‘ کی دل دہلادینے والی نصیحتیں

یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ اے آئی اب محض معلومات دینے والا ٹول نہیں بلکہ حقیقی دنیا میں انسانی جانیں بچانے والا طاقتور ذریعہ بھی بن چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انسانی جانیں بچانے میں اے آئی کا کردار اے آئی اے آئی اور لاپتا کوہ پیما مصنوعی ذہانت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انسانی جانیں بچانے میں اے ا ئی کا کردار اے ا ئی مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت گھنٹوں میں اے ا ئی نے ئی اور

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد