موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے جی بی میں قدرتی آفات میں اضافہ ہو رہا ہے، نگران وزیر اعلیٰ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
گلگت بلتستان کے نگران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قدرتی آفات کی صورت میں بروقت ریسکیو، ریلیف اور بحالی کے حوالے سے جامع حکمت عملی وضع ہونی چاہئے۔ تمام اضلاع میں ہیوی مشینری کی دستیابی ضروری ہے تاکہ کسی بھی قدرتی آفت کی صورت میں فوری طور پر امدادی کاموں کا آغاز کیا جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمد نے گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے دی جانے والی محکمانہ بریفنگ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گلگت بلتستان میں قدرتی آفات میں اضافہ ہو رہا ہے جو مستقبل میں بہت بڑا چیلنج ہو گا۔ اس حوالے سے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا محکمہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس ادارے کو مضبوط اور فعال بنانے کیلئے دستیاب وسائل کی فراہمی اور سٹاف کی کمی دور کرنے کیلئے سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہئے۔ نگران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قدرتی آفات کی صورت میں بروقت ریسکیو، ریلیف اور بحالی کے حوالے سے جامع حکمت عملی وضع ہونی چاہئے۔ تمام اضلاع میں ہیوی مشینری کی دستیابی ضروری ہے تاکہ کسی بھی قدرتی آفت کی صورت میں فوری طور پر امدادی کاموں کا آغاز کیا جا سکے۔ نگران وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر ہدایت کی کہ گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ویئر ہاؤس میں سٹاف کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔
نگران وزیر اعلیٰ نے صوبائی ایمرجنسی کنٹرول روم کے قیام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے بروقت اور موثر انداز میں ریسکیو، ریلیف آپریشن سرانجام دینے میں معاونت ملے گی۔ نگران وزیر اعلیٰ نے گلگت بلتستان میں سیاحتی سیزن اور قدرتی آفتوں کے دوران ایف سی این اے کی جانب سے بروقت ریسکیو آپریشنز میں معاونت فراہم کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ افواج پاکستان نے ہمیشہ مشکل وقت میں تعاون کیا ہے۔نگران وزیر اعلیٰ نے ڈائریکٹر جنرل گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو ہدایت کی کہ قدرتی آفات کی وجہ سے جانی اور مالی نقصانات کے معاوضوں کی ادائیگی پالیسی کے تحت بروقت ہونی چاہئے تاکہ مصیبت اور آزمائش کے موقع پر متاثرین کی باعزت طریقے سے مدد کی جا سکے۔ نگران وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ایمرجنسی کے تحت بحالی کے کاموں کی ادائیگیاں مکمل طور پر شفاف ہونی چاہئے۔ نگران وزیر اعلیٰ نے آبی گزر گاہوں کو واگزار کرانے اور تجاوزات کے خاتمے کیلئے قانون سازی کے اقدام کو سراہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نگران وزیر اعلی گلگت بلتستان کی صورت میں قدرتی آفات ہونی چاہئے کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔