پنجاب کے شہریوں کیلیے خوشخبری، پہلا ٹائم بیسڈ اسٹروک ٹریٹمنٹ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
لاہور:
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صحت کے شعبے میں ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے پنجاب میں ہر ضلع میں اسٹروک سینٹرز قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
اس نئے پروگرام کے تحت چار گھنٹے کے اندر فالج کے مریض کو اسپتال پہنچانے اور فوری علاج فراہم کرنے کی سہولت میسر ہوگی، جس سے عمر بھر کی معذوری سے بچاؤ ممکن ہوگا۔
پنجاب کے تمام ضلعی اسپتالوں میں جدید اسٹروک سینٹرز قائم کیے جائیں گے، اور ہر ضلع میں ماہر نیورولوجسٹ اور پیڈز نیورولوجسٹ تعینات ہوں گے۔ ہر اسپتال میں سی ٹی اسکین مشین ہر دم تیار رہے گی اور فالج کے مریض کے لیے ’’ٹی پی اے‘‘ اور جدید ’’ٹی این کے‘‘ انجکشن دستیاب ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے مطابق یہ اسٹروک/فالج مینجمنٹ پروگرام مرحلہ وار پنجاب بھر میں نافذ ہوگا۔ پہلے 30، پھر 15 اور آخر میں باقی 24 ضلعی اسپتالوں میں اسٹروک سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔ فزییشنز کو خصوصی تربیت دی جائے گی تاکہ وہ فوری علاج اور انجکشن لگانے میں مہارت حاصل کر سکیں۔
وزیر اعلیٰ نے عوامی آگاہی مہم کے ذریعے فالج کی علامات اور چار گھنٹے کے ’’گولڈن آور‘‘ کی اہمیت کے بارے میں لوگوں کو تعلیم دینے کا بھی اعلان کیا۔ مریم نواز شریف نے کہا کہ ان کا وژن ہے کہ کسی مریض کو ایمرجنسی کی صورت میں دور دراز شہر جانے کی ضرورت نہ پڑے اور ہر شہری کو قریبی اسپتال میں فوری علاج میسر ہو۔
یہ پروگرام پنجاب میں صحت کے شعبے میں انقلاب کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے اور صوبے کے ہر ضلع میں جدید علاج کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔