ترکیہ کا کردوں کے خلاف شام کی مدد کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکیہ نے کہا ہے کہ اگر شامی حکومت نے اپیل کی تو وہ کردوں کے خلاف معاونت کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شامی فوج نے حلب میں دہشت گردی کے خلاف کارروائی شروع کی۔ ترک وزارت دفاع نے ایک بریفنگ میں کہا کہ حلب میں کی گئی کارروائی مکمل طور پر شامی فوج نے انجام دی۔ بیان کا مقصد اس میں ترکیہ کی عدم شمولیت واضح کرنا تھا۔ وزارت دفاع نے کہا کہ اگر شام نے مدد طلب کی تو ترکیہ ضروری تعاون فراہم کرے گا۔ دوسری جانب شامی حکام نے حلب کے 7محلوں میں تاحکم ثانی کرفیو نافذ کر دیاہے۔ شامی فوج اور سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے درمیان مسلسل تیسرے دن بھاری ہتھیاروں سے شدید جھڑپیں جاری رہیں۔ شامی فوج نے حلب کے علاقوں الاشرفیہ اور بنی زید کے تمام باسیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کھڑکیوں کے قریب نہ جائیں اور فوری طور پر ہر عمارت کی نچلی منزلوں پر چلے جائیں۔ حلب کے گورنر عزام الغریب نے اعلان کیا کہ داخلی امن فورسز شمالی شام کے شہر حلب کے علاقوں شیخ مقصود اور الاشرفیہ کے اندر تعینات ہونے کی تیاری کر رہی ہیں۔ گورنر عزام الغریب نے حلب گورنری کی عمارت میں مرکزی کمیٹی کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ موصول اطلاعات کے مطابق شیخ مقصود اور الاشرفیہ کے محلوں میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز (قسد) کے ارکان کی بڑی تعداد میں اختلاف اور ایک دوسرے حصے کے فرار ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ یہ پیش رفت ان علاقوں میں ایک اہم فیلڈ کی تبدیلی کی راہ ہموار کر رہی ہے۔ اب داخلی امن فورسز مذکورہ محلوں کے اندر تعینات ہونے کی تیاری کر رہی ہیں تاکہ ان محلوں کو مکمل طور پر محفوظ بنایا جا سکے اور بے گھر ہونے والے باسیوں کی اپنے گھروں کو بحفاظت واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔ حلب کے گورنر نے شہرکے محلوں کے مکینوں سے مکمل طور پر ہدایات پر عمل کرنے اور سیکورٹی آپریشنز کے خاتمے تک واپسی میں جلدی نہ کرنے کی اپیل کی کیونکہ واپسی کا عمل باضابطہ اعلان کے ذریعے منظم کیا جائے گا۔ دوسری طرف سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے کمانڈر مظلوم عبدی نے خبردار کیا ہے کہ حلب شہر میں لڑائی کا جاری رہنا حکومت کے ساتھ مفاہمت کے امکانات کو کمزور کر رہا ہے۔ یہ تنبیہ فریقین کے درمیان شدید جھڑپوںکے بعد سامنے آئی ہے۔ عبدی نے ایک بیان میں کہا کہ لڑائی کے طرزِ عمل اور جنگ کی زبان کا تسلسل مفاہمت تک پہنچنے کے مواقع کو ختم کر رہا ہے اور خطرناک آبادیاتی تبدیلیوں کے لیے حالات سازگار بنا رہا ہے۔ اسی تناظر میں حلب رسپانس کی مرکزی کمیٹی نے حلب کے مرکز میں انسانی راہداریوں اور سویلین علاقوں کے نواح پر سیرین ڈیموکریٹک فورسز کی گولہ باری کے نتیجے میں 10 اموات اور 88 افراد کے زخمی ہونے کا اعلان کیا ۔ حلب رسپانس کی مرکزی کمیٹی نے شہریوں کی نقل مکانی کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع ایمرجنسی پلان پر عمل شروع کر دیا تاکہ ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور ممکنہ خطرات کو کم کیا جا سکے۔کمیٹی نے ایک بیان میں کہا کہ اسے اب تک تقریباً ایک لاکھ 42 ہزار بے گھر افراد منتقل ہوئے،جن میں 13 ہزار گزشتہ روز دوپہر ایک بجے تک آئے ہیں جہاں 80 ٹرانسپورٹ گاڑیاں روانہ کی گئیں اور 12 عارضی پناہ گاہیں کھولی گئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سیرین ڈیموکریٹک فورسز میں کہا کہ شامی فوج حلب کے جا سکے
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔