شدید دھند کے باعث ملک کے اہم شاہراہیں بند، سفر متاثر
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
ملک کے مختلف علاقوں میں شدید دھند کے باعث اہم شاہراہیں بند ہو گئی ہیں، جس سے عوامی اور تجارتی نقل و حمل متاثر ہو رہی ہے۔
نیشنل ہائیویز اینڈ موٹروے پولیس کے مطابق موجودہ اور تازہ ترین صورتحال کچھ یوں ہے :
ایم-1: صوابی سے پشاور تک بند
ایم-2: ٹھوکر نیاز بیگ سے چکری تک بند
مزید پڑھیں:پنجاب میں دھند کا راج برقرار، مختلف موٹرویز بند
ایم-3: فیض پور سے سمندری تک بند
ایم-4: پنڈی بھٹیاں سے فیصل آباد تک بند
سفر کے آغاز سے پہلے کسی بھی پریشانی سے بچنے کے لیے @NHMPofficial کو فالو کریں یا ٹال فری ہیلپ لائن 130 پر رابطہ کریں۔ pic.
— National Highways & Motorway Police (NHMP) (@NHMPofficial) December 10, 2025
ایم-4: شیر شاہ سے شام کوٹ تک بند
ایم-5: شیر شاہ سے روہڑی تک بند
ایم-11: لاہور سے سمبڑیال تک بند
مزید پڑھیں:گہری دھند کے باعث بنگلہ دیش میں اہم دریائی راستوں پر فیری سروس معطل
ایم-14: ٹھٹی کلراں سے عیسٰی خیل تک بند
دھند میں گاڑی چلانے کیلئے احتیاطی تدابیر! pic.twitter.com/rL0NnvjxGI
— National Highways & Motorway Police (NHMP) (@NHMPofficial) January 9, 2026
سڑکیں بند ہونے کے باعث شہریوں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، اور حکام نے ڈرائیورز سے ہدایت کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور بروقت متبادل راستے اختیار کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
NHMP اہم شاہراہیں بند، دھند شدید دھند نیشنل ہائیویز اینڈ موٹروے پولیس
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اہم شاہراہیں بند تک بند ایم کے باعث
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔