موسمِ سرما میں گیس و بجلی کے مسائل سنگین، صنعتوں کو گیس کی فراہمی ایک بار پھر معطل
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
بسیم افتخار:موسمِ سرما میں گیس کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث کراچی میں گیس اور بجلی کے مسائل شدت اختیار کر گئے ہیں۔
سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کی انتظامیہ نے گھریلو اور کمرشل صارفین کو بہتر گیس پریشر فراہم کرنے کے لیے صنعتوں کو ایک بار پھر گیس کی فراہمی بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ترجمان سوئی سدرن کے مطابق کراچی شہر میں صنعتی صارفین کو اتوار کی صبح 8 بجے سے پیر کی صبح 8 بجے تک مجموعی طور پر 24 گھنٹوں کے لیے گیس کی فراہمی معطل رہے گی۔ اس دوران گھریلو صارفین کو بہتر پریشر فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر کسی گھریلو صارف کو گیس پریشر کی شکایت ہو تو وہ آپریشنل ہیلپ لائن 1199 پر اپنی شکایت درج کرا سکتا ہے۔
لاہور میں 20 سال بعد بسنت، شہر کو تین زونز میں تقسیم کر کے سکیورٹی انتظامات سخت
سوئی سدرن کے مطابق معمول کے مطابق گیس لوڈ مینجمنٹ کے تحت گھریلو اور کمرشل صارفین کو روزانہ رات 10 بجے سے صبح 5 بجے تک گیس کی فراہمی بند رکھی جاتی ہے، جبکہ بعض علاقوں میں یہ عمل رات ساڑھے 9 بجے سے صبح ساڑھے 5 بجے تک جاری رہتا ہے تاکہ دن کے اوقات میں بہتر گیس پریشر فراہم کیا جا سکے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ گیس کی قلت کے باعث ایل پی جی گیس کا استعمال کرنا پڑ رہا ہے جو ان کے لیے شدید معاشی بوجھ بن چکا ہے، جبکہ دن کے اوقات میں گیس پریشر میں کمی یا بندش کھانا پکانے کے عمل کو بھی مشکل بنا دیتی ہے۔ ملیر، جیکسن، گھگھر پھاٹک، منگھوپیر، شاہ لطیف ٹاؤن، نصرت بھٹو کالونی، کنواری کالونی، کورنگی، اورنگی ٹاؤن، بلدیہ، سلطان آباد سمیت کراچی کے کئی علاقے گیس کی قلت سے شدید متاثر ہیں۔
پنجاب کے اسکولز 12 جنوری سے کھلیں گے، وزیر تعلیم نے افواہوں کی تردید کر دی
دوسری جانب شہر قائد میں بجلی کی اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بھی ختم نہ ہو سکا ہے۔ کے الیکٹرک کے ترجمان کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں 4 سے 10 گھنٹے تک بجلی کی بندش جاری ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کے 70 فیصد فیڈرز لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ ہیں، جبکہ 30 فیصد فیڈرز پر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ جن علاقوں میں لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، ان کی تفصیلات کے الیکٹرک کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔
شہریوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ موسمِ سرما میں گیس اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
5 فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر عام تعطیل کا اعلان
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔