مظاہروں میں ہلاکتیں: یورپی ممالک نے ایران کو خبردار کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران بڑھتی ہوئی ہلاکتوں اور تشدد کی رپورٹس نے عالمی سطح پر شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق یورپ کی تین بڑی طاقتوں فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے ایران کی موجودہ صورتحال پر ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مشترکہ بیان میں ایرانی سیکورٹی فورسز سے واضح طور پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مظاہرین پر تشدد سے فوری طور پر باز رہیں اور انسانی جانوں کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔
یورپی رہنماؤں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران میں جاری احتجاج کے دوران سامنے آنے والی اموات اور زخمیوں کی اطلاعات نہایت تشویشناک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا احترام کریں اور کسی بھی اختلافی آواز کو طاقت کے ذریعے دبانے سے گریز کریں۔
بیان میں زور دیا گیا کہ آزادیٔ اظہار اور پُرامن اجتماع ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور کسی بھی جمہوری یا ریاستی نظام میں ان حقوق کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔
مشترکہ بیان میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ ایرانی حکام پر یہ اخلاقی اور قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے عوام کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ یورپی قیادت کا کہنا تھا کہ مظاہرین کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ کسی خوف یا انتقامی کارروائی کے خدشے کے بغیر اپنے مطالبات پیش کر سکیں۔ بیان میں ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں کی پاسداری کرے جن کا وہ خود فریق ہے۔
دوسری جانب ایران میں جاری صورتحال پر امریکا کی جانب سے بھی سخت لہجہ اختیار کیا گیا ہے۔ گزشتہ روز امریکی صدر نے ایک انٹرویو میں خبردار کیا تھا کہ اگر ایران میں احتجاج کے دوران مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا اس پر سخت اور بھرپور ردعمل دے گا۔ امریکی بیان کے بعد خطے میں سفارتی سرگرمیوں میں مزید تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے اور عالمی طاقتیں ایران کی صورتحال کو بغور مانیٹر کر رہی ہیں۔
غیر ملکی انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق ایران میں حکومت مخالف مظاہرے اب تک 100 سے زائد شہروں تک پھیل چکے ہیں اور ان احتجاجی مظاہروں کے دوران ہلاک افراد کی تعداد درجنوں تک پہنچ چکی ہے، جن میں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ سیکورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 2500 افراد کی گرفتاری کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس نے عالمی سطح پر مزید سوالات کو جنم دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایران میں کے دوران کیا گیا
پڑھیں:
یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ اور یورپی کمیشن کی سلامتی پالیسی کی نائب صدر کایہ کالس اسلام آباد کا دورہ کریں گی۔
نجی ٹی وی چینل کےمطابق سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کایہ کالس 31 مئی کو اسلام آباد پہنچیں گی، یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کی پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
یوکرین تنازع، امریکہ اسرائیل ایران جنگ اور عالمی توانائی و اقتصادی بحران کے تناظر میں دورہ اہمیت کا حامل ہے۔
مزید پڑھیں۔بجٹ کے بعد کون سے موبائل فون سستے ہو رہے ہیں؟ اہم خبر