پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا ممکنہ دفاعی اتحاد عالمی توجہ کا مرکز
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ترکیہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قائم دفاعی اتحاد میں شمولیت کی خواہش ظاہر کر دی ہے، جس کے بعد خطے میں ممکنہ سہ فریقی دفاعی تعاون پر عالمی سطح پر توجہ بڑھ گئی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق یہ ممکنہ اتحاد نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ اس سے آگے بھی طاقت کے توازن کو نمایاں طور پر متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ برس طے پانے والے دفاعی معاہدے کو اس ممکنہ توسیع کی بنیاد سمجھا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کے تحت یہ اصول طے کیا گیا تھا کہ اگر کسی ایک ملک پر جارحیت کی گئی تو اسے دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ شق نیٹو اتحاد کے آرٹیکل فائیو سے مشابہ ہے، جو اجتماعی دفاع کے تصور کو مضبوط بناتی ہے۔
بلومبرگ کے مطابق ترکیہ، جو پہلے ہی نیٹو کا رکن ہے، اس اتحاد میں شامل ہو کر اسے مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترکیہ کی شمولیت سے اتحاد کو فوجی تجربے، اسٹریٹجک منصوبہ بندی اور آپریشنل صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ حاصل ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب کی مالی طاقت اور پاکستان کی منظم فوجی صلاحیتیں اس اتحاد کو ایک منفرد حیثیت دیتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سہ فریقی دفاعی اتحاد باضابطہ شکل اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات خطے کی سیکورٹی صورتحال پر گہرے ہوں گے۔ رپورٹ میں عندیہ دیا گیا ہے کہ تینوں ممالک کے درمیان جلد ہی اس حوالے سے باضابطہ معاہدے پر بات چیت کا امکان موجود ہے، جس کے بعد عالمی طاقتیں اس اتحاد کو سنجیدگی سے لینا شروع کر دیں گی۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ممکنہ اتحاد خطے میں طاقت کے توازن کو نئے انداز میں ترتیب دے سکتا ہے۔ سعودی عرب کی معاشی قوت، پاکستان کی پیشہ ورانہ فوج اور ترکیہ کی جدید عسکری ٹیکنالوجی و تجربہ مل کر ایک مؤثر دفاعی بلاک تشکیل دے سکتے ہیں۔ اس پیش رفت کو بعض مبصرین علاقائی سلامتی کے لیے ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں۔
عالمی سطح پر اس ممکنہ اتحاد کو مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ کچھ ماہرین کے نزدیک یہ تعاون خطے میں استحکام کا ذریعہ بن سکتا ہے جب کہ دیگر کے مطابق اس سے جغرافیائی سیاست میں نئی صف بندیاں جنم لے سکتی ہیں، تاہم یہ بات طے ہے کہ پاک سعودی دفاعی اتحاد میں ترکیہ کی ممکنہ شمولیت آنے والے دنوں میں عالمی سفارتی اور دفاعی مباحث کا اہم موضوع بنے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دفاعی اتحاد کے مطابق اتحاد کو سکتا ہے
پڑھیں:
گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹومسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔
گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟
نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔
اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔
اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔
وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔
ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔