کراچی: عمارت کے فلیٹ میں زوردار دھماکہ،6 افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
اسامہ ملک :کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال بلاک 2 میں ہِبا ہوم نامی رہائشی عمارت کے ایک فلیٹ میں زور دار دھماکے کے بعد آگ بھڑک اُٹھی، جس کے نتیجے میں خاتون اور بچوں سمیت 6 افراد زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق دھماکے سے فلیٹ میں شدید تباہی ہوئی، گھریلو سامان جل کر خاکستر ہو گیا جبکہ دروازہ ٹوٹ کر دور جا گرا۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ دھماکے کی آواز اتنی شدید تھی کہ زلزلے کا گمان ہوا، جس کے فوراً بعد آگ پھیل گئی اور اپنی مدد آپ کے تحت ابتدائی ریسکیو کیا گیا، بعد ازاں ریسکیو ٹیمیں بھی موقع پر پہنچ گئیں۔ عمارت چار منزلہ ہے جس میں ہر فلور پر پانچ چھوٹے فلیٹس بنے ہوئے ہیں، متاثرہ فلیٹ ایک کمرے پر مشتمل تھا۔
لاہور میں 20 سال بعد بسنت، شہر کو تین زونز میں تقسیم کر کے سکیورٹی انتظامات سخت
کے الیکٹرک حکام کے مطابق واقعہ شارٹ سرکٹ کے باعث پیش نہیں آیا بلکہ آگ گیس لیکج سے لگی۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں رات کے وقت گیس بند اور صبح بحال ہوتی ہے، ممکنہ طور پر چولہا یا سگریٹ جلانے کی کوشش کے دوران دھماکہ ہوا۔
پولیس کے مطابق زخمیوں میں شبیر، عبداللہ، شمائلہ، محسن، احمد اور حمزہ شامل ہیں، جنہیں طبی امداد کے لیے سول اسپتال کے برنس سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
پنجاب کے اسکولز 12 جنوری سے کھلیں گے، وزیر تعلیم نے افواہوں کی تردید کر دی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک