پاکستانی اداکارہ حریم فاروق نے اپنے لائف پاٹنر سے متعلق لب کشائی کی ہے۔اداکارہ نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا جس میں انہوں نے مستقبل میں ہونے والے لائف پاٹنر کے حوالے سے گفتگو کی۔حریم فاروق نے کہا کہ میں بہت فلمی ہوں، چاہتی ہوں کوئی شہزادہ آئے اور مجھے بگی پر بٹھا کر لے جائے۔انہوں نے کہا کہ میں کافی رومانوی انسان ہوں، میں فلم 'دل والے دلہنیا لے جائیں گے'، 'دل تو پاگل ہے'، اور 'ٹائٹینک' کی بہت بڑی فین ہوں، میں نے کئی بار فلم 'ٹائٹینک' دیکھی ہے، کوئی ایسا انسان ہو جو آپ کیلئے دوسروں سے لڑے اور خود کو تبدیل کرے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ واقعی آپ سے محبت کرتا ہے۔دل ٹوٹنے سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہاں دل ٹوٹتے ہوئے لگتا ہے کہ دنیا ختم ہوجائے گی، ایک مہینے تک مجھے بھی ایسا ہی لگا اس کے بعد میں نے اپنی سوچ تبدیل کی اور کہا کہ ابھی تو پوری زندگی باقی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین