اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر اور صدر مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا انجینئر امیر مقام نے جامعہ پشاور کے اساتذہ کی تنخواہوں کے لیے جاری احتجاج پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ترجیحات پر سخت تنقید کی ہے۔

انجینئر امیر مقام نے کہا کہ ایک طرف صوبے کی سب سے بڑی جامعہ کے اساتذہ اپنے جائز حقوق کے لیے سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کراچی کے دوروں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب صوبے کے تعلیمی ادارے مالی بحران کا شکار ہوں اور اساتذہ کو تنخواہیں نہ مل رہی ہوں تو وزیراعلیٰ کا صوبہ چھوڑ کر سیاسی سرگرمیوں کے لیے دیگر شہروں میں جانا کس طرزِ حکمرانی کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی 13 سالہ حکومت نے صوبے کو مسائل کے انبار کے سوا کچھ نہیں دیا۔ تعلیم، صحت، روزگار اور امن و امان جیسے بنیادی شعبے بدترین زبوں حالی کا شکار ہیں۔ “پی ٹی آئی کی ناقص حکمرانی نے صوبے کے اداروں کو کمزور کیا اور آج اس کے نتائج عوام اور اساتذہ بھگت رہے ہیں،”

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ نعروں اور الزامات کی سیاست کی، مگر عملی طور پر صوبے کے عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا۔ جامعہ پشاور کے اساتذہ کا احتجاج اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت اپنے ملازمین کی بنیادی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور صوبے میں بہتر حکمرانی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا پی ٹی آئی کے لیے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن