کراچی:

حکومت سندھ نے صوبے بھر میں مختلف بڑے محکموں کے خلاف موصول ہونے والی کرپشن کی شکایات پر سخت کارروائی کا فیصلہ کرلیا۔

اس سلسلے میں وزیر اینٹی کرپشن سندھ سردار محمد بخش مہر کی صدارت میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ اینٹی کرپشن کی سالانہ کارکردگی رپورٹ اور مختلف محکموں کے خلاف موصول ہونے والی کرپشن شکایات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ شکایات پر سخت اور فوری کارروائی کی منظوری دیتے ہوئے اہم فیصلے کیے گئے۔

اجلاس میں بریفنگ میں بتایا گیا کہ یکم جنوری تا 31 دسمبر 2025 کے دوران اینٹی کرپشن کی کمیٹی ون، ٹو اور تھری کے مجموعی طور پر 28 اجلاس منعقد ہوئے جن میں 536 کیسز اور 328 اوپن انکوائریز شامل تھیں۔ ان اجلاسوں کے دوران 23 ری انکوائریز، 15 کیسز بند، 103 کیسز متعلقہ محکموں کو ارسال، 43 کیسز ڈیفر اور 24 ایف آئی آرز کی منظوری دی گئی۔

ڈی جی اینٹی کرپشن امتیاز علی ابڑو نے بتایا کہ سندھ بھر میں 22 مختلف محکموں کے خلاف مجموعی طور پر 13 ہزار 603 کرپشن کی شکایات موصول ہوئیں۔ ان میں ایس بی سی اے کے خلاف 1022، کے ڈی اے 408، بلدیات 1623، ریونیو 2598، تعلیم 841، پولیس 1211، ورکس اینڈ سروسز 736، صحت 595، پبلک ہیلتھ 344، فوڈ ڈپارٹمنٹ 255، فاریسٹ 216 اور محکمہ آبپاشی کے خلاف 619 شکایات شامل ہیں۔

ترجمان اینٹی کرپشن کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے دوران 9 ہزار 423 کیسز کی تصدیق موصول ہوئی، جبکہ مجموعی طور پر 18 ہزار 288 کیسز زیرِ تصدیق اور 6 ہزار 835 کیسز نمٹائے جا چکے ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ شکایات کے ازالے کی شرح سال 2023 میں 11 فیصد، 2024 میں 24 فیصد جبکہ 2025 میں 37.

37 فیصد رہی۔

 ترجمان کا کہنا تھا کہ اینٹی کرپشن عدالت اور فیلڈ سرگرمیوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ سندھ بھر میں 45 نئے کیسز موصول ہوئے، 812 کیسز عدالتوں میں بھیجے گئے، 2 افراد کو سزا سنائی گئی، 2 ٹریپ کارروائیاں اور 22 سرپرائز وزٹس کیے گئے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اینٹی کرپشن سردار محمد بخش مہر نے ہدایت دی کہ مختلف محکموں کے افسران کے خلاف موصول ہونے والی کرپشن شکایات پر فوری اور بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔ عوام کا اعتماد برقرار رکھنا ہر افسر کی اولین ذمہ داری ہے، ہر کیس میں بلا تعطل اور شفاف طریقے سے کارروائی یقینی بنائی جائے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مختلف محکموں اینٹی کرپشن شکایات پر محکموں کے کرپشن کی کے خلاف

پڑھیں:

5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا

پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔

بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔

پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ 

حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ