پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی تاریخ کی سب سے مہنگی ٹیم خریدنے والے حمزہ مجید نے کپتان اور کھلاڑیوں سے متعلق کھل کر بات کی ہے۔

پی ایس ایل فرنچائز سیالکوٹ کے مالک حمزہ مجید نے نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں اسپورٹس جرنلسٹ ایسوسی ایشن آف لاہور (سجال) کے دفتر میں  میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہمیں پی ایس ایل میں کامیابی ملی تو پہلے میڈیا کے ساتھ بیٹھوں گا۔

انہوں نے بتایا کہ سیالکوٹ نام کا انتخاب اس لیے کیا کہ کرکٹ کو لے کر سیالکوٹ کی عوام جوش والی ہے اور وہ کرکٹ بہت مس کر رہے تھے۔

حمزہ مجید نے کہا کہ سیالکوٹ کے کرکٹ اسٹیڈیم کی بھی حالت ٹھیک نہیں تھی، خواہش تھی کہ اس اسٹیڈیم کو ٹھیک کریں۔

انہوں نے کہا کہ فی الحال فیصل آباد کے اسٹیڈیم کا ہمارے پاس آپشن ہے، وہ ہمارا دوسرا ہوم گراؤنڈ ہے۔ محسن نقوی صاحب کی پوری سپورٹ ہے، ہم سیالکوٹ اسٹیڈیم کو بہتر کریں گے۔

حمزہ مجید کا کہنا تھا کہ مشاورت جاری ہے، اگلے ہفتے آفیشل ڈاکیومنٹ سائن کیا جائے گا اور اپنی فرنچائز کے پورے نام کا اعلان کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں

پی ایس ایل کی مہنگی ترین ٹیم خریدنے والے مجید چوہدری کون ہیں؟

انہوں نے کہا کہ ہمیں دیگر فرنچائز مالکان سے بھی پوری سپورٹ حاصل ہے۔ تمام مالکان کے لیے یہ ایک بہترین صورتحال ہے۔

حمزہ مجید نے کہا کہ اس ماہ کے آخر تک پلئیرز ڈرافٹنگ کا عمل مکمل کرلیں گے، بابر اعظم کو ٹیم میں لینا سب کی خواہش ہے۔ چھ سے سات آسٹریلین کرکٹرز بھی ڈرافٹنگ کے لیے رجسٹرڈ ہوچکے ہیں، امید ہے تین سے چار ہماری ٹیم میں شامل ہوں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی موجودہ پلیئنگ الیون کو ٹیم میں شامل کرنے کی خواہش زیادہ ہے۔ ہمارا فوکس لوکل ٹیلنٹ کو پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے۔ سیالکوٹ کے بچوں کو پرفارمنس کی بنیاد پر ٹیم کا حصہ بنایا جائے گا۔

حمزہ مجید نے کہا کہ ہمارا کپتان پاکستانی ہوگا، کوچ ہمارے میرٹ پر ہوں گے، اگر مقامی کوچز نہ میسر ہوئے تو غیر ملکی کوچ کی طرف جائیں گے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم نے کچھ ایسے اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ ملایا ہے جن کا کرکٹ سے تعلق ہے۔ کوشش ہوگی کہ ٹیپ بال کرکٹ کو بھی پروموٹ کیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پی ایس ایل نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل