اوورسیز ہزارہ کلچرل ڈے پر پُروقار تقریب، عبدالصبور قریشی سمیت اہم شخصیات کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
اوورسیز ہزارہ کلچرل ڈے کے موقع پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس سے تحریک صوبہ ہزارہ کے مرکزی جنرل سیکریٹری عبدالصبور قریشی نے خطاب کیا۔
تقریب میں اوورسیز ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے معززین، سماجی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔
عبدالصبور قریشی نے اپنے خطاب میں کہاکہ ہزارہ خطہ اپنی منفرد ثقافت، روایات اور تہذیبی ورثے کی وجہ سے نمایاں اہمیت رکھتا ہے، اور اس کے فروغ اور تحفظ کے لیے اجتماعی کوششیں ضروری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اوورسیز ہزارہ کلچرل ڈے کا مقصد بیرون ملک مقیم ہزارہ کمیونٹی کو اپنی ثقافت اور شناخت سے جوڑے رکھنا ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ بیرون ملک مقیم ہزارہ نوجوان نہ صرف اپنے وطن کا مثبت تشخص اجاگر کر رہے ہیں بلکہ ملکی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
اس موقع پر عبدالصبور قریشی نے ثقافتی سرگرمیوں، زبان کے فروغ اور نئی نسل کو اپنی روایات سے روشناس کرانے پر زور دیا۔
تقریب کے اختتام پر شرکا نے عزم ظاہر کیاکہ ہزارہ ثقافت کے فروغ کے لیے آئندہ بھی اس طرح کی تقریبات کا انعقاد جاری رکھا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews تقریب کا انعقاد عبدالصبور قریشی ہزارہ کلچرل ڈے وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تقریب کا انعقاد عبدالصبور قریشی ہزارہ کلچرل ڈے وی نیوز عبدالصبور قریشی ہزارہ کلچرل ڈے اوورسیز ہزارہ
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔