سوشل میڈیا پر ایک خبر پھیلائی جا رہی ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات خراب ہو گئے ہیں، اور اس پر مختلف تبصرے بھی کیے جارہے ہیں تاہم اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

’وی نیوز‘ کے مطابق حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ملک کو آگے لے جانے کے لیے ایک پیج پر ہیں، اور اختلافات کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔

مزید پڑھیں: حکومت پی ٹی آئی مذاکرات میں اسٹیبلشمنٹ حصہ نہیں، محمد علی درانی

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سیدّ عاصم منیر نے طے کر رکھا ہے کہ مل کر ملک کو آگے لے کر جانا ہے، کیوں کہ یہ ملک جتنا سیاستدانوں یا اسٹیبلشمنٹ کا ہے اتنی ہی ایک عام پاکستانی کا بھی ہے۔

شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچے ملک کو استحکام کی جانب گامزن کردیا ہے، اور اب عالمی ادارے بھی اس بات کا اعتراف کررہے ہیں کہ پاکستان ترقی کررہا ہے۔

جو عناصر یہ افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں ان کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے 6 جنوری کی پریس کانفرنس میں واضح جواب دیا ہے۔

6 جنوری کو ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری واضح کرچکے کہ وفاقی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے۔ فوج ہمیشہ حکومت کے شانہ بشانہ کام کرتی ہے اور بہتر گورننس کے لیے تعاون جاری رکھے گی۔

سینیئر صحافی رضوان رضی نے کچھ عناصر کی جانب سے پھیلائی گئی افواہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان کی سیاسی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ بہت ہی مربوط طریقے سے ایک دوسرے سے مل کر چل رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کی سفارتی اور دفاعی محاذ پر کامیابیاں گنی نہیں جارہیں، بجائے اس پر بحث کرنے کے کچھ لوگ یہ لُچ فرائی کررہے ہیں کہ یہ شادی نہیں چلنی۔

مزید پڑھیں: مسائل کا واحد حل عمران خان سے مذاکرات، چاہے حکومت کرے یا اسٹیبلشمنٹ، فواد چوہدری

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل (ر) زاہد محمود کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت میں اختلافات کا تاثر بے بنیاد ہے، اس وقت سول و عسکری قیادت میں تعلقات مثالی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسٹیبلشمنٹ حکومت پاکستان شہباز شریف فیلڈ مارشل عاصم منیر مثالی تعلقات وزیراعظم پاکستان وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹیبلشمنٹ حکومت پاکستان شہباز شریف فیلڈ مارشل عاصم منیر مثالی تعلقات وزیراعظم پاکستان وی نیوز حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ہیں کہ کے لیے

پڑھیں:

بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان

اسلام آباد:

وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔

بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور  اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم