Express News:
2026-07-24@01:46:01 GMT

ناشتہ، لنچ اورڈنر

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT

معلوم نہیں کہ یہ فقرہ یاجملہ یا فارمولا یا شرشرہ کس کی ایجاد، تخلیق یا قول فضول ہے کہ ناشتہ بادشاہوںکا، لنچ شہزادوں کا اور ڈنر فقیروں کا ہونا چاہیے۔

یہ اچھا ہے کہ معلوم نہیں ورنہ اس کا ہمارے ہاتھوں مقتول ہونا اور ہمارا پھانسی پر لٹکنا طے تھا اور اس نامعقول احمق الزی، جاہل الملک اور نالائق الزمن کو قتل کرنے سے پہلے ہم اس کا گلا دبا کر یہ ضرور پوچھتے کہ دانشور کے پٹھے، الو کے باپ، بادشاہ اورشہزادے تو جو چاہیں کر سکتے ہیں کہ زورآور شیر ہیں۔

انڈے دیں یا دل کرے تو بچے جنیں لیکن جو پیدائشی فقیر ہیں، وہ بادشاہوں اور شہزادوں کا ٹائم ٹیبل کیسے اپنائیں گے کہ ان کے پاس تو ناشتہ، لنچ اور ڈنر سب کے سب امیروں کے ہوتے ہیں، وہ اگر بادشاہوں، شہزادوں جیسا بریک فاسٹ، لنچ، برنچ یا ڈنر کرناچاہیں توکیا تمہارے باپ کے فائیوسٹار ہوٹل میں کریں گے ؟

اور یہ خدا مارے کالانعام اس ملک میں پچاسی فیصد ہیں جب کہ شاہ اور شہزادے پندرہ فیصد ہیں، یہ پندرہ فیصد پچاسی فیصدیوں کے پاس کچھ چھوڑیں گے تو وہ کھائیں گے۔ ننگی نہائے گی کیا، دھوئے گی کیا؟ اورنچوڑے گی کیا؟

ایک ’’حقیقہ‘‘ دم ہلا رہا ہے، اس کی بھی سنتے ہیں۔ ایک مشہور شاعر کی اہلیہ محترمہ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ان کے میاں صاحب جب جیل میں تھے تو وہ ان سے ملنے گئی تھیں، ملاقات میں باتوں کے دروان میں نے’’صاحب‘‘ سے پوچھا، ناشتہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا ہاں۔ میں نے پوچھا کیسا؟ تو انھوں نے کہا ایک پیالی چائے اورایک بن۔ میں چیخی۔ ایک پیالی چائے اور ایک بن؟

اس کے بعد محترمہ نے اس ایک پیالی چائے اور ایک بن کو لے کر جو گل افشانی فرمائی، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ وہ ایک پیالی چائے اور ایک بن، دہرا دہرا کر اپنے بے پناہ اور عظیم دکھ کا اظہار کرتی رہیں۔

ایک پیالی چائے اور ایک بن کا ذکر وہ یوں کرتی ہے جیسے دنیا میں پہلی بار کسی انسان کے ساتھ اتنا بڑا ظلم ہوا ہو بلکہ ان کے میاں صاحب پر ہی نہیں، پوری انسانیت پر۔ یہ ایسا چنگیزی، ہلاکو خانہ اور ہٹلرانہ ظلم ہوا ہو، ایک پیالی چائے اور ایک بن۔

ارے زمین پھٹ کیوں نہیں گئی، اے آسمان تم ریزہ ریزہ ہو کر گرے کیوں نہیں، اے کائنات تم اس عظیم ظلم کے بعد بھی موجود ہو۔ چلو پھر پانی بلکہ ایک پیالی چائے میں ڈوب کر مر کیوں نہیں گئی۔ ایک پیالی چائے اور ایک بن، ایک پیالی چائے اور ایک بن۔

ساری دنیا کی تاریخ میں بلکہ جغرافیہ، جنرل نالج اور معاشرتی علوم میں اتنا بڑا اتیاچار۔ ایک پیالی چائے اور ایک بن۔ ایک پیالی چائے اورایک بن ۔ ایک پیالی چائے اور ایک بن۔ لیکن اس میں اس محترمہ کاکوئی قصورنہیں تھا کیوں کہ ان کا تعلق اس طبقے سے تھا ہی نہیں جو اگر ایک پیالی چائے اور ایک بن میسر آجائے تو ان کی عید ہوجاتی ہے۔

اور یہ جس نے تین قسم کے ناشتوں کا فارمولا لانچ کیا ہے، اس کا تعلق بھی اسی پندرہ فیصد طبقے سے ہے جو ہر قسم کے ناشتے پر قدرت رکھتے ہیں، ان کو کیا پتہ کہ اکثر لوگ تو ناشتے، لنچ اور ڈنر کے نام ہی سے واقف نہیں، ان کو تو جب بھی جو کچھ بھی میسر آجائے وہی ان کا ناشتہ بھی ہوتا ہے، لنچ بھی اور ڈنر بھی، جب جاگے وہی سویرا کہ بیچاروں کے پاس ایک ہی دال کا پتیلا ہوتا ہے ۔ دال پتیلے کا واقعہ تو یقیناً آپ نے سنا ہوگا۔

ایک شخص کے مہمان آنے و الے تھے، اس نے چاہا کہ مہمانوں پر اس کی مہمان نوازی اور سخاوت کا رعب بھی پڑے اور زیادہ خرچ بھی نہ آئے چنانچہ بیوی کے ساتھ مل کر اس نے ڈرامہ تیارکیا۔

بیوی کو اس نے سمجھایا کہ جب مہمان آکر بیٹھ جائیں اور ہم بات چیت شروع کریں تو تم باورچی خانے میں ایک پتیلا گرا دینا۔ میں وہیں سے پوچھوں گا، کیا گرا؟ توکہنا کہ بریانی کا پتیلا گرگیا ہے۔ میں کہوں گا، باقی تو سب ٹھیک ہے نا۔

تم جواب ہاں میں دینا اور تھوڑی دیر بعد مرغ کا، پھر قورمے کا، پھر سبزی کا پتیلا گراتی رہنا، آخر میں پوچھوں گا، کچھ بچا بھی ہے ۔ تو تم بتانا کہ صرف دال ہی بچی ہے، میں کہوں گا چلو اب وہی دال ہی کھلانا۔

ڈرامہ تیار ہوگیا، مہمان پہنچ گئے تو شوہر نے ان سے گپ شپ شروع کی، تو باورچی خانے سے ایک زوردار کڑانک کی آواز گونجی۔ شوہر نے وہیں سے پوچھا کیا گراہے بھاگوان، جواب میں بیوی کی مردہ سی آواز آئی۔ وہ کم بخت دال ہی کا پتیلا گر گیا ہے ۔

بیچاروں بلکہ خداماروں کے گھر میں صرف دال ہی کا پتیلا ہو تو دوسرے پتیلے کہاں سے لاکر گرائیں گے۔ آپ نے اکثر ٹی وی چینلز پر کھانا پکانے کے پروگرام دیکھے ہوں گے جن میں ایک نہایت چمکدار بلکہ مالامال، بے مثال اورآل ان آل کچن ہوتا ہے، چاروں طرف خوبصورت الماریوں میں لشکارے مارتے ہوئے برتن، طرح طرح کے ڈبے، جار اور مالدار قسم کے جدید ایجادات ہوتے ہیں۔

درمیان میں ایک چیز کھڑی ہوتی ہے جس نے اپنے قد سے دگنی لمبی سفید ٹوپی پہنی ہوتی ہے، اسے شیف کہتے ہیں، وہ دیکھنے والوں کو آلو پالک کی ایک ڈش بنانا سکھاتا ہے، اس کے اور صاف شفاف کوکنگ رینج کے دائیں طرف قیمتی، نایاب اور آنکھ مارتے ہوئے برتن ہوتے ہیں جن میں جدید الیکٹرانک آلات بھی ہوتے ہیں اور بائیں طرف دس پندرہ ایک جیسے پیالوں میں یا کھلے ڈبوں میں مصالحے اور دیگر لوازمات ہوتے ہیں اور سب سے ہٹ کر بچارے کٹے ہوئے آلو پالک دھرے ہوتے ہیں۔

سب سے پہلے وہ ان مصالوں اور اجزا کے نام لیکن قیمت بالکل نہیں بتاتا۔ سب سے پہلے آلو، لہسن پیسٹ ، پھر کٹے ہوئے پیاز، کٹا ہوا سبز دھنیا، پودینہ ، ٹماٹر اور سبز مرچیں دکھاتا ہے، اس کے بعد کوٹا ہوا کالا اور سفید زیرہ ،کالی مرچیں، الائچی، دارچینی، ہلدی، مرچ پاوڈر، اجوائن، سونف، کڑی پتا۔ اس کے بعد ایک پیالہ بالائی، مکھن اور پنیر وغیرہ۔

اب جن کا ایسا چمکدار، قیمتی، مالامال اور بے مثال کچن ہو، مہنگے برتن اور ہزاروں روپوں کے مصالحے اور لوازمات دسترس میں ہوں، کیا وہ پاگل ہیں جوخود آلو پالک سیکھ کر اپنا میک اپ اور لباس اور وقت برباد کرکے تکلیف اٹھائیں، ان کے پاس اس شیف سے زیادہ تجربہ کار، تابعدار اور ہردم تیار باورچی بھی تو ہوتے ہیں۔

اگر وہ چاہیں تو ڈرائیور بھیج کر کسی فائیوسٹار ہوٹل سے وہی ڈش منگوا سکتے ہیں بلکہ ساتھ میں دوچار اور بھی دیسی، انگریزی اور چائنا ڈشیں منگوا سکتے ہیں کہ پیسے تو ویسے بھی پچاسی فیصد کالانعاموں کے خون پسینے، چمڑے اور اون سے نکالے ہوئے بہت ہوتے ہیں۔ ایک پشتو کہاوت یادآرہی ہے کہ کچھ لوگ اپنے پیٹ سے پوچھتے ہیں کہ آج کیا بلکہ کیا کیاکھلاؤں اور کچھ لوگوں کے پیٹ ان سے پوچھتے ہیں، آج کیا کھلاؤ گے ، کھلاؤ گے بھی یا ہمیشہ کی طرح صبر شکر کر کے کھلاؤ گے۔

برسماع راست ہرکس چیر نیست

طعمہ ہر مرغکے انجیر نیست

لیکن اتنا بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں، آج ہم ان کو ایک ڈش سکھائیں گے جس کے بارے اجمل خٹک نے کہا ہے کہ خاص تو خاص پیدا ہوتے ہیں، وہ تو ماں کی کوکھ سے جنتی پیدا ہوتے ہیں۔آؤ ان کے لیے جنت کمائیں جو ماں کی کوکھ سے جہنمی پیدا ہوتے ہیں۔

تو چلیے ڈش سکھاتے ہیں، اس کے لیے ایک بدبخت بدنما اور بدزیب قسم کی سرجھاڑ، منہ پھاڑ قسم کی ایک خاتون ایک چولہا، ایک کالا توا اور ایک پلیٹ درکار ہوگا، ڈش کا نام ہے ۔ صبر شکر ڈش۔

دوپیاز اور دوٹماٹر لے لیئجے،کہیں سے کیسے بھی کرکے حاصل کریں، ہری، مرچ دکاندار مفت دے دے گا، نمک پڑوسی سے مانگ لیجیے، پیاز اور ٹماٹر اور ہری مرچ بھی کاٹیں، توے کو تھوڑا ساچکنا کرلیں ورنہ ڈش توے سے چپک جائے گا۔

یہ سب کچھ توے پر ڈالیے، تھوڑا الٹ پلٹ کیئجے پھر پلیٹ کو اس پر اوندھا کرکے رکھ لیں، تھوڑی دیر بعد پلیٹ ہٹا دیں، ڈش تیار ہے، تناول کئیجے۔ لیکن اگر یہ بھی نہ ہو تو پیاز اور ٹماٹر کو پلیٹ میں گول گول کاٹ لیجیے، پھر ایک ہاتھ میں روٹی اوردوسرے ہاتھ میں ہری مرچ پکڑئیے۔

لذیذ ڈش کا نوالہ منہ میں رکھیے اور دوسرے ہاتھ میں پکڑی ہوئی مرچ بھی دانتوں سے کاٹ کر منہ میں لے لیئجے اور منہ کی چکی چلائیں اور سارا مال پیس کر گلے سے اتارئیے لیکن ٹھنڈا پانی اپنے پاس رکھنا مت بھولئیے جو فائربریگیڈ کا کام کرے گا۔ نوش جاں کرنے کے بعد پہلے شکر ادا کیجیے اور پھر صبر کا وظیفہ کرلیجیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہوتے ہیں اور ڈنر دال ہی کے پاس ہیں کہ کے بعد

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف