سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے متعدد علاقوں میں شدید دھند
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے متعدد علاقوں میں شدید دھند چھا جانے کے باعث معمولات زندگی متاثر ہیں۔
ایم ون پر پشاور سے رشکئی تک ٹریفک معطل ہے۔ ایم 2، ٹھوکر نیاز بیگ سے چکری۔ ایم 3، فیض پور سے درخانہ اور ایم 4، پنڈی بھٹیاں سے شیر شاہ تک ٹریفک کے لیے بند ہے۔
اسی طرح ایم 5، شیر شاہ سے سکھر۔ ایم 11 لاہور سے سمبڑیال اور ایم 14، انجرا سے عیسیٰ خیل تک ٹریفک معطل ہے۔
سیہون سے لاڑکانہ تک مختلف مقامات پرحدِ نگاہ 10 سے 30 میٹر رہ گئی۔
علاوہ ازیں سمہ سٹہ کے قریب دھند کے باعث ٹرک کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار جاں بحق جبکہ 2 افراد زخمی ہوگئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اہلِ سنت پاکستان کراچی کے وفد نے حضرت علامہ سید شاہ عبد الحق قادری کی قیادت میں سندھ کے صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دینی امور، مساجد، مدارس، محکمہ اوقاف کے زیر انتظام مزاراتِ اولیائے کرام کی دیکھ بھال زائرین کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں سید رفیق شاہ، مفتی بلال قادری، مولانا جمیل احمد امینی، عبداللہ میمن اور شفیع رانا قادری بھی شامل تھے۔ وفد نے صوبائی وزیر کو کراچی سمیت سندھ بھر میں مساجد، مدارس اور مزارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔
شاہ عبد الحق قادری نے اس موقع پر کہا کہ حکومتی ادارے مساجد، مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان کریں۔ انہوں نے محکمہ اوقاف کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، انتظامی مسائل کے حل اور مسلسل رابطہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔