امریکا میں اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی ریاست مسیسیپی کے شہر ویسٹ پوائنٹ میں فائرنگ کے مختلف واقعات میں 6 افراد ہلاک ہوگئے جب کہ پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق کلے کاؤنٹی شیرف ایڈی اسکاٹ نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ یہ واقعات 3مختلف عوامی مقامات پر ہوئے۔ حکام نے مزید بتایا کہ تینوں مقامات پر فائرنگ ایک ہی شخص نے کی جس میں کم از کم 6 افراد مارے گئے جن کے نام اہل خانہ سے اجازت ملنے کے بعد ظاہر کیے جائیں گے۔شیرف نے فیس بک پوسٹ میں مزید لکھا کہ مشتبہ شخص اب کمیونٹی کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے کیوں کہ اسے گرفتار کرلیا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تفتیش کر رہے ہیںتاحال واقعے کے محرکات کے بارے میں بھی کچھ معلوم نہ ہوسکا جب کہ قاتل اور مقتولین کے درمیان کیا رشتہ تھا اس بارے میں بھی کچھ واضح نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔