پاک امریکا 13 ویں انسداد دہشت گردی مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260111-08-16
راولپنڈی( مانیٹرنگ ڈیسک )پاک امریکا 13ویں مشترکہ فوجی مشقوں Inspired Gambit-2026 کا آغاز ہوگیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 9 جنوری سے شروع ہونے والی انسداد دہشت گردی کی مشترکہ مشقیں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر پبی میں ہو رہی ہیں۔ 2 ہفتوں پر محیط یہ مشقیں کاؤنٹر ٹیررازم ڈومین میں منعقد کی جا رہی ہے، جس میں پاکستان اور امریکا کے فوجی دستے شامل ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق افتتاحی تقریب میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ ان مشقوں کا مقصد انسداد دہشت گردی کے تجربات کے اشتراک کے ذریعے باہمی افہام و تفہیم اور تعاون کو بڑھانا ہے۔ اسی طرح موثر انسداد دہشت گردی آپریشنز کے لیے ضروری حکمت عملیوں، تکنیکوں اور طریقہ کار کو مزید بہتر بنانا بھی اس کے مقاصد میں شامل ہے۔ترجمان پاک فوج کے مطابق مشترکہ مشقوں میں شہری جنگ کے دوران نشانہ بازی کی مہارتوں کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے آپریشنل نظریات اور بہترین طریقوں کو سمجھنے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ اس طرح کی مشترکہ تربیتی مشقیں ابھرتے ہوئے سیکورٹی چیلنجز سے نمٹنے، پیشہ ورانہ فوجی معیار کو بہتر بنانے اور انسداد دہشت گردی کے پیچیدہ ماحول میں کام کرنے کے لیے دونوں افواج کی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں اہم ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ Inspired Gambit-2026 فوجی مشقیں امن و استحکام کی مشترکہ کوششوں کے لیے پاکستان اور امریکا کے مسلسل عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔