ایران میں مہنگائی کے خلاف جاری مظاہروں کے دوران بڑھتی ہوئی کشیدگی پر ایرانی فوج اور آئینی کونسل نے سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قومی مفادات، اسٹریٹجک انفراسٹرکچر اور عوامی املاک کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا، جبکہ پُرامن احتجاج کو تشدد میں بدلنے کا ذمہ دار بیرونی عناصر کو قرار دیا گیا ہے۔

ایرانی فوج کا بیان

ایرانی فوج نے حکومت مخالف مظاہروں کے تناظر میں جاری بیان میں کہا ہے کہ دشمن عناصر ملک میں امن و امان اور عوامی سلامتی کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا کا ایران پر نفسیاتی دباؤ بڑھانے کے لیے غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے پر غور

بیان میں اسرائیل پر صورتحال بگاڑنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ عناصر، جن کے ہاتھ 12 روزہ جنگ میں اس قوم کے بچوں کے خون سے رنگے ہیں، ایک بار پھر فتنہ و فساد کو ہوا دے رہے ہیں۔

قومی مفادات اور اسٹریٹجک تنصیبات کا تحفظ

فوج کے مطابق سپریم کمانڈر اِن چیف کی قیادت میں تمام مسلح افواج دشمن کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور طاقت کے ساتھ قومی مفادات، اسٹریٹجک انفراسٹرکچر اور عوامی و سرکاری املاک کا ہر صورت دفاع کیا جائے گا۔

آئینی کونسل کا مؤقف

ایران کی آئینی کونسل کے ترجمان ہادی طہان نظیف نے کہا ہے کہ معاشی مسائل پر ہونے والے پُرامن احتجاج کو بیرونی مداخلت کے ذریعے تشدد میں تبدیل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ پرتشدد واقعات میں سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایران میں جاری کشیدگی: ترکیہ نے اسرائیل کو کسی بھی جارحانہ اقدام سے خبردار کردیا

پُرامن احتجاج کو تشدد میں بدلنے کا الزام

ترجمان کے مطابق پسِ پردہ ہاتھ وہی ہیں جن کے ہاتھ جون 2025 کی 12 روزہ جنگ میں ایک ہزار سے زائد ایرانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، اور انہی عناصر نے عوامی احتجاج کو بدامنی میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔

ایران کی آئینی کونسل کے ترجمان ہادی طہان نظیف سپریم لیڈر کا سخت ردعمل

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے مظاہروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ عناصر امریکی صدر کو خوش کرنے کے لیے اپنے ہی ملک کی عمارتوں اور عوامی املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران قربانیوں سے وجود میں آیا ہے اور نہ ہی تخریب کاروں کے سامنے جھکے گا اور نہ ہی بیرونی ایجنڈے کو برداشت کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران بحران: مظاہرین کے قتل پر امریکا مداخلت کرسکتا ہے، ٹرمپ کی وارننگ

واضح رہے کہ ایران میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے 13ویں روز میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں اب تک پرتشدد واقعات میں 15 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم 65 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں، جبکہ مختلف شہروں میں کشیدگی برقرار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا آیت اللہ خامنائی ایران ایرانی فوج ہادی طہان نظیف.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ا یت اللہ خامنائی ایران ایرانی فوج ہادی طہان نظیف آئینی کونسل ایرانی فوج اور عوامی احتجاج کو

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت