Daily Mumtaz:
2026-07-24@01:33:46 GMT

پی سی بی نے ملتان سلطانز کی بھی نیلامی کا فیصلہ کرلیا

اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT

پی سی بی نے ملتان سلطانز کی بھی نیلامی کا فیصلہ کرلیا

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز ملتان سلطانز کی بھی نیلامی کا فیصلہ کر لیا۔

ذرائع کے مطابق پی سی بی نے پی ایس ایل 11 میں ملتان سلطانز کے معاملات خود چلانے کا اعلان کیا تھا۔ نئی پیش رفت کے مطابق پی سی بی اب ملتان سلطانز کو بھی فروخت کرے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کی آکشن پی سی بی کی توقعات سے بڑھ کر رہی، دو نئی ٹیموں کی اچھی قیمت ملنے کی وجہ سے اب ملتان سلطانز کی بھی آکشن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پی سی بی سمجھتا ہے کہ ملتان سلطانز بھی فروخت کرنے کا اس سے اچھا وقت نہیں، ملتان سلطانز کی بھی اوپن بڈنگ ہو گی، جلد اشتہار دیا جائے گا، قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کےبعد جلد باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دو فرنچائزز کی ریکارڈ فروخت اور غیرملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کے بعد ملتان سلطانز لینے میں خواہشمند سامنے آ گئے، پی سی بی پرامید ہے کہ ملتان سلطانز آکشن میں اچھی قیمت میں فروخت ہو گی۔

واضح رہے کہ حالیہ آکشن میں پی سی بی نے پی ایس ایل کی دو نئی ٹیمیں فروخت کیں۔ پی ایس ایل 11 میں 8 ٹیمیں ہوں گی جس میں حیدر آباد اور سیالکوٹ بھی شامل ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ملتان سلطانز کی بھی پی ایس ایل پی سی بی

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ