تعلیم، روزگار اور آزادی پر پابندیاں، افغان خواتین نے دنیا سے مدد مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان میں خواتین کو درپیش صنفی امتیاز کے خلاف افغان خواتین نے عالمی سطح پر آواز بلند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق خواتین کی ایک مشاورتی اور ایڈووکیسی تنظیم نے آٹھ ہفتوں پر مشتمل بین الاقوامی مہم "اب صنفی امتیاز ختم کریں" کا آغاز کر دیا ہے۔
افغان میڈیا چینل آمو ٹی وی کے مطابق اس مہم کا مقصد عالمی برادری کی توجہ افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کو درپیش سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جانب مبذول کرانا ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کے تحت خواتین کو عوامی زندگی سے مکمل طور پر خارج کر دیا گیا ہے جبکہ لڑکیوں کو تعلیم کے بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے، جس سے ایک پوری نسل کے مستقبل کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
آمو ٹی وی نے برطانوی رکنِ پارلیمنٹ ایلس میکڈونلڈ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ افغان خواتین اور لڑکیاں اس وقت ایک تباہ کن صورتحال کا سامنا کر رہی ہیں، جس پر عالمی سطح پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے مطابق افغانستان میں اب بھی تقریباً 22 لاکھ لڑکیاں اسکول جانے سے محروم ہیں، جبکہ یو این ویمن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہر دس میں سے آٹھ لڑکیاں تعلیم، تربیت اور روزگار کے حق سے محروم ہیں۔
رپورٹس کے مطابق طالبان کے زیرِ اقتدار علاقوں میں خواتین کو سرعام کوڑے مارنے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ماہرینِ بین الاقوامی امور کا کہنا ہے کہ افغان خواتین کی جانب سے صنفی امتیاز کے خلاف عالمی مہم طالبان کے جبر کے خلاف ایک منظم اور جرات مندانہ اقدام ہے، جبکہ مبصرین کے مطابق افغانستان میں خواتین پر پابندیاں نہ صرف انسانی حقوق بلکہ خطے کے استحکام کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج بن چکی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افغانستان میں افغان خواتین میں خواتین کے مطابق
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔