زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2026 GMT
حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں
مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن، سید ناصر حسین شاہ، سعید غنی، جام خان شورو، ضیاء الحسن لنجار، میٔر کراچی مرتضیٰ وہاب شریک تھے۔چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ، چیٔرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نجم شاہ، کمشنر کراچی حسن نقوی، ہوم سیکریٹری اقبال میمن، سیکریٹری فنانس فیاض جتوئی، سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو، ڈی جی پی اینڈ ڈی الطاف ساریو اور دیگر افسران نے بھی شرکت کی۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کے لیے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں، زراعت کی ترقی کے لیے آبپاشی کے نظام کو مزید مؤثر اور جدید بنانا ناگزیر ہے، اگر ملک کو زرعی شعبے میں خودکفیل بنانا ہے تو آبپاشی کے نظام میں بہتری لانا ہوگی۔وزیر آبپاشی جام خان شورو کی وزیراعلیٰ کو جاری آبپاشی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی اور کہا کہ کینال کلوزر کے دوران سکھر بیراج کے دروازوں کی تبدیلی کا کام شروع کیا جا رہا ہے، سکھر بیراج کے 25 دروازے تبدیل کیے جا رہے ہیں، وزیر آبپاشی جام خان شورو، وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت کی کہ کینال کلوزر کے دوران سکھر بیراج کے کم از کم 27 دروازے تبدیل کیے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: زراعت کی ترقی ا بپاشی
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔