میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے تاریخی اولڈ سٹی ایریا میں سڑکوں کی تعمیر، سیوریج سسٹم کی بحالی اور اسٹریٹ لائٹس کی بہتری کے منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھ دیا ہے۔

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ تاریخی اولڈ سٹی ایریا کی ترقی اور بحالی کے لیے بلدیہ عظمیٰ کراچی عملی اقدامات کر رہی ہے۔ اولڈ سٹی ایریا ڈویلپمنٹ منصوبہ ضلع جنوبی کراچی میں 595 اعشاریہ 600 ملین روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جوڑیا بازار، بولٹن مارکیٹ، میٹھادر اور کھارادر میں سڑکوں، پیور بلاکس اور سیوریج لائنز کی بحالی شامل ہے۔

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا مزید کہنا تھا کہ جوڑیا بازار میں 2 ہزار 700 اسکوائر فٹ وئیرنگ ایریا اور 67 ہزار 800 اسکوائر فٹ پیور ایریا تعمیر کیا جائے گا۔ جوڑیا بازار میں 12 اور 18 انچ قطر کی 2 ہزار 600 فٹ سے زائد نئی سیوریج لائن بچھائی جائے گی جبکہ بولٹن مارکیٹ میں 69 ہزار 800 اسکوائر فٹ وئیرنگ ایریا اور 35 ہزار 194 اسکوائر فٹ پیور بلاکس تعمیر ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بولٹن مارکیٹ میں 15 اور 18 انچ قطر کی 4 ہزار فٹ سے زائد نئی سیوریج لائن بچھائی جائے گی۔ میٹھادر میں ایک لاکھ 31 ہزار 862 اسکوائر فٹ پیور ایریا اور 4 ہزار 50 فٹ نئی 12 انچ قطر کی سیوریج لائن شامل ہے۔ کھارادر میں 3 لاکھ 31 ہزار 930 اسکوائر فٹ وئیرنگ ایریا، 95 ہزار 610 اسکوائر فٹ پیور ایریا اور 4 ہزار 100 فٹ 18 انچ قطر کی سیوریج لائن شامل ہے۔

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ اولڈ سٹی ایریا میں اسٹریٹ لائٹس اور الیکٹریفکیشن کا کام سائٹ کی ضرورت کے مطابق مکمل کیا جائے گا۔ ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت میں شفاف اور معیاری انداز میں مکمل کیے جائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میئر کراچی بیرسٹر مرتضی اولڈ سٹی ایریا سیوریج لائن انچ قطر کی ایریا اور

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا