وفاقی وزیر مواصلات اور استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ مسائل کے حل کے لیے ملک میں زیادہ صوبے ہونا ضروری ہیں اور نئے صوبے عوام کے مفاد میں ہیں۔

گوجرانوالہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملک میں صوبوں کی تعداد بڑھانے کی تحریک چل رہی ہے، اور جو لوگ اس کے خلاف ہیں انہیں منہ توڑ جواب دینا ہوگا۔

مزید پڑھیں: ملک میں نئے صوبے بنانے کی بازگشت، بلاول بھٹو بول پڑے

علیم خان نے کہا کہ فی الحال یہاں صرف ایک ہائیکورٹ موجود ہے جس تک لوگ دور دراز سے آتے ہیں، اس لیے وہ جنوبی، شمالی اور وسطی پنجاب کے قیام کے حق میں ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبوں کے نام بدلنے کا مقصد نہیں ہے، بلوچستان کا نام بلوچستان ہی رہے گا۔ اگر سندھ میں حکومت ہے تو وہاں ایک کے بجائے تین وزرائے اعلیٰ بنائے جا سکتے ہیں، اور بلوچستان میں بھی تین وزرائے اعلیٰ رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔

وفاقی وزیر نے زور دیا کہ مسائل کا مؤثر حل زیادہ صوبوں کے قیام سے ممکن ہے اور نئے صوبے سب کے فائدے کے لیے ہیں۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ عوامی مسائل کے حل میں تعاون کریں۔

واضح رہے کہ ملک میں نئے صوبوں کی بات کچھ عرصے سے چل رہی ہے، تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کا اس پر مؤقف ہے کہ پہلے جنوبی پنجاب صوبہ بنایا جائے، اس کے بعد دیگر کی بات ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: کیا 28ویں ترمیم میں نئے صوبے بن سکیں گے؟

دوسری جانب مسلم لیگ ن نئے صوبوں کے حوالے سے کوئی واضح مؤقف نہیں رکھتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews عبدالعلیم خان منہ توڑ جواب نئے صوبے وفاقی وزیر وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: عبدالعلیم خان منہ توڑ جواب وفاقی وزیر وی نیوز ملک میں

پڑھیں:

اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔

اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔

انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔

سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان