ماہر مزدور قوانین محمود عالم سومرو ایڈووکیٹ کی رحلت
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن (EOBI) وزارت سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل حکومت پاکستان کے سابق ڈائریکٹر قانون اور مزدور قوانین کے ماہر محمود عالم سومرو طویل علالت کے باعث دارالصحت اسپتال کراچی میں انتقال کرگئے۔
محمود عالم سومرو ایڈووکیٹ مزدور قوانین پر سند کا درجہ رکھتے تھے خصوصاً ای او بی آئی ایکٹ 1976 پر انہیں بھرپور عبور تھا۔ محمود عالم سومرو 1949 میں ٹنڈو آدم میں پیدا ہوئے آپ کے والد حکیم عبدالکریم سومرو ٹنڈو آدم میں مطب کرتے تھے۔ انہوں نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم ٹنڈو آدم میں حاصل کی، نیو علی گڑھ کالج ٹنڈو آدم میں دوران تعلیم بہترین مقرر رہے اور مستحق طلبہ کے لیے مفت ٹیوشن سنٹر قائم کیا۔محمود عالم سومرو ایک سیلف میڈ انسان تھے انہوں نے اپنے والد کی شدید علالت کے باعث سلسلہ تعلیم ادھورا چھوڑ کر اپنے گھرانے کی کفالت کے لیے ٹنڈو آدم کی کھڈیوی اور بیڑی بنانے کارخانوں میں مزدوری سے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا وہ کافی عرصہ تک کراچی سے پنجاب جانے والی ٹرینوں میں ٹھنڈی بوتلیں بھی فروخت کرتے رہے۔ محمود عالم سومرو نے 1963 میں حیدرآباد کا رخ کیا اور اس دوران متعدد ٹیکسٹائل ملز میں محنت و مشقت سے چھوٹی موٹی ملازمتیں کیں لیکن ملوں میں مزدوری کے ساتھ ساتھ انہوں نے مزید تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور اس کے نتیجہ میں 1975 میں سندھ لاء کالج سے ایل ایل بی اور 1976 میں سندھ یونیورسٹی سے ایم اے اکنامکس کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے اپریل 1985 میں ایگزیکٹیو افسر قانون کی حیثیت سے ای او بی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی ۔
اس دوران ہیڈ آفس کراچی کے علاوہ کراچی شہر اور حیدرآباد اور سکھر کے ریجنل آفسوں میں خدمات انجام دیں۔ محمود عالم سومرو ترقی کے مدارج طے کرتے ہوئے
ڈائریکٹر لاء کے عہدہ تک پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے ای او بی آئی ایکٹ 1976 میں ترامیم کی غرض سے مختصر عرصہ کے لیے وزارت محنت و افرادی قوت اسلام آباد میں بھی خدمات انجام دیں۔ آپ ای او بی آئی کی ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد فرید چیمبرز صدر میں قائم اپنے دفتر میں قانون کی پریکٹس کرتے رہے اور اس دوران نیلاٹ سمیت دیگر اداروں میں زیر تربیت طلبہ کو مزدور قوانین پر لیکچر بھی دیتے رہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: محمود عالم سومرو مزدور قوانین ٹنڈو ا دم میں او بی ا ئی انہوں نے
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔