پی آئی اے کی نجکاری اور ایک ہی بروکر کا بار بار سامنے آنا
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کی نجکاری کو عوام کے سامنے اصلاح، بچت اور بہتر انتظام کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن اصل خدشہ یہ ہے کہ کہیں یہ بھی پاکستان اسٹیل ملز جیسی کہانی نہ بن جائے۔ وہاں 2006 میں سپریم کورٹ نے پورا عمل اس لیے روک دیا تھا کہ طریقہ شفاف نہیں تھا۔ قیمت کم لگائی گئی، قواعد توڑے گئے، اور بولی دینے والوں کی درست جانچ نہیں ہوئی۔ فیصلہ یہ تھا کہ قومی ادارہ بیچنا ہو بھی تو غیر منصفانہ طریقے سے نہیں بیچا جا سکتا۔
اسی کیس میں کنسورشیم کا حصہ بروکر عارف حبیب تھے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد معاملہ صرف نجکاری تک محدود نہیں رہا۔ سوال یہ اُٹھا کہ جب ایک بڑے قومی ادارے کی نجکاری میں شفافیت پر اتنے بڑے اعتراض آئے، تو پھر یہی نام بعد میں دوسرے بڑے قومی ادارے، یعنی PIA، کے معاملے میں دوبارہ کیسے سامنے آ رہا ہے۔
یہاں اصل مسئلہ یہی ہے۔ دو بڑی نجکاریاں۔ ایک ہی معروف بروکر۔ اور ہر بار یہ تاثر کہ فیصلے پہلے ہو جاتے ہیں اور قانون بعد میں راستہ تلاش کرتا ہے۔ اگر بار بار ایک ہی سرمایہ کاروں کا حلقہ آگے آئے، اور مقابلہ محدود رہے، تو عوام کے لیے یہ یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ مقصد واقعی ادارہ بہتر کرنا ہے، نہ کہ مخصوص لوگوں کو فائدہ دینا۔
پی آئی اے کے معاملے میں بھی وہی خطرات موجود ہیں۔ اگر بولی، قیمت کے تعین اور پری کوالیفکیشن میں مکمل شفافیت نہ ہوئی، اور وہی پرانے چہرے بغیر سخت جانچ کے آگے آئے، تو نتیجہ بھی وہی نکلے گا جو اسٹیل ملز کے ساتھ نکلا۔ ادارہ بظاہر نجی ہاتھوں میں جائے گا، لیکن عوام کا اعتماد، ریاست کی ساکھ اور قومی مفاد کمزور پڑ جائے گا۔
سوال سیدھا ہے۔ جب دو بڑے قومی اداروں کی نجکاری میں ایک ہی بروکر کا نام بار بار آئے، تو کیا یہ محض اتفاق ہے، یا نظام واقعی مخصوص لوگوں کے لیے ترتیب دیا گیا ہے؟
اگر PIA کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ہے تو پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ شفافیت ایک نعرہ نہیں، ایک شرط ہے۔ ورنہ نتیجہ یہی ہوگا کہ ادارے کم ہوں گے، سوالات بڑھتے جائیں گے، اور عوام سمجھے گی کہ پھر وہی کھیل کھیلا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔