data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کی نجکاری کو عوام کے سامنے اصلاح، بچت اور بہتر انتظام کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن اصل خدشہ یہ ہے کہ کہیں یہ بھی پاکستان اسٹیل ملز جیسی کہانی نہ بن جائے۔ وہاں 2006 میں سپریم کورٹ نے پورا عمل اس لیے روک دیا تھا کہ طریقہ شفاف نہیں تھا۔ قیمت کم لگائی گئی، قواعد توڑے گئے، اور بولی دینے والوں کی درست جانچ نہیں ہوئی۔ فیصلہ یہ تھا کہ قومی ادارہ بیچنا ہو بھی تو غیر منصفانہ طریقے سے نہیں بیچا جا سکتا۔
اسی کیس میں کنسورشیم کا حصہ بروکر عارف حبیب تھے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد معاملہ صرف نجکاری تک محدود نہیں رہا۔ سوال یہ اُٹھا کہ جب ایک بڑے قومی ادارے کی نجکاری میں شفافیت پر اتنے بڑے اعتراض آئے، تو پھر یہی نام بعد میں دوسرے بڑے قومی ادارے، یعنی PIA، کے معاملے میں دوبارہ کیسے سامنے آ رہا ہے۔
یہاں اصل مسئلہ یہی ہے۔ دو بڑی نجکاریاں۔ ایک ہی معروف بروکر۔ اور ہر بار یہ تاثر کہ فیصلے پہلے ہو جاتے ہیں اور قانون بعد میں راستہ تلاش کرتا ہے۔ اگر بار بار ایک ہی سرمایہ کاروں کا حلقہ آگے آئے، اور مقابلہ محدود رہے، تو عوام کے لیے یہ یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ مقصد واقعی ادارہ بہتر کرنا ہے، نہ کہ مخصوص لوگوں کو فائدہ دینا۔
پی آئی اے کے معاملے میں بھی وہی خطرات موجود ہیں۔ اگر بولی، قیمت کے تعین اور پری کوالیفکیشن میں مکمل شفافیت نہ ہوئی، اور وہی پرانے چہرے بغیر سخت جانچ کے آگے آئے، تو نتیجہ بھی وہی نکلے گا جو اسٹیل ملز کے ساتھ نکلا۔ ادارہ بظاہر نجی ہاتھوں میں جائے گا، لیکن عوام کا اعتماد، ریاست کی ساکھ اور قومی مفاد کمزور پڑ جائے گا۔
سوال سیدھا ہے۔ جب دو بڑے قومی اداروں کی نجکاری میں ایک ہی بروکر کا نام بار بار آئے، تو کیا یہ محض اتفاق ہے، یا نظام واقعی مخصوص لوگوں کے لیے ترتیب دیا گیا ہے؟
اگر PIA کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ہے تو پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ شفافیت ایک نعرہ نہیں، ایک شرط ہے۔ ورنہ نتیجہ یہی ہوگا کہ ادارے کم ہوں گے، سوالات بڑھتے جائیں گے، اور عوام سمجھے گی کہ پھر وہی کھیل کھیلا گیا ہے۔

 

عارف روہیلہ گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کی نجکاری ایک ہی

پڑھیں:

تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات شدید تحریک انصاف گلگت بلتستان انٹری نواز شریف وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا