کراچی:

کاٹن ایئر 2025-26 کے دوران پنجاب اور بلوچستان سے ملکی تاریخ میں پہلی بار بڑے پیمانے پرکپاس کی خریداری سرگرمیوں کے نتیجے میں سندھ کی کاٹن جننگ فیکٹریوں میں کپاس کی ترسیل میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

جسکے باعث سندھ میں گذشتہ 2 سال کے مقابلے میں دوگنااضافے سے 82 جننگ فیکٹریاں فعال ہوگئی ہیں۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایاکہ روایتی طور پر سندھ کے بڑے کاٹن زون کے بیشتر اضلاع جن میں بدین، ٹھٹھہ، میرپور خاص، حیدر آباد، عمرکوٹ اورسانگھڑ شامل ہیں، کے ساتھ ساتھ دیگرکچھ علاقوں میں فروری اورمارچ کے دوران کپاس کی کاشت شروع ہونے سے جون کے مہینے سے ہی نئے کاٹن جننگ سیزن کاآغاز ہو گیا اوراکتوبر، نومبر میں اس کااختتام ہوتا تھا۔ 

اس دوران پنجاب کے متعدد کاٹن جنرز بھی سندھ سے کپاس کی خریداری کرکے اپنی جننگ فیکٹریوں کوفعال کر لیا کرتے تھے۔ 

مزید پڑھیں

کاٹن ایئر 2025-26 کے دوران سندھ میں کپاس کی ترسیل میں غیر معمولی اضافہ

پاکستان کاٹن ایکسچینج کی عمارت کی ملکیت کے تنازع پر کے ایم سی کے حق میں حکم امتناع جاری

تاہم گزشتہ تین سال سے سندھ کی بیشترکاٹن جنرز نے پنجاب کی بیشتر بڑی منڈیوں رحیم یار خان،بہاولپور، بہاولنگر، ڈی جی خان، خانیوال اور وہاڑی کے ساتھ بلوچستان سے بھی اعلیٰ معیارکی کپاس کی خریداری شروع ہونے سے سندھ میں 31 دسمبرکو سندھ بھر میں فعال کاٹن جننگ فیکٹریوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ کے مذکورہ کاٹن زون میں بیشتر فعال جننگ فیکٹریاں فی الوقت اعلیٰ اور درمیانے معیارکی کپاس کومکسڈ کر کے کاٹن کی جننگ کررہے ہیں، جس سے مقامی ٹیکسٹائل ملوں کومناسب قیمتوں پرروئی کی فراہمی کے مواقع پیداہوگئے ہیں اور انہی عوامل کے سبب روئی طلب اورقیمتوں میں بتدریج اضافے کا رحجان پیدا ہو گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ روئی کی فی من قیمت گذشتہ ہفتے 200 سے 300 روپے کا اضافہ سامنے آیا ہے، جس کے نتیجے میں فی من روئی کی قیمت 15 ہزار روپے سے بڑھکر 15 ہزار 300 روپے کی سطح پر آگئی ہے،جبکہ اعلیٰ معیارکی روئی کی قیمتیں بدستور 16 ہزارروپے فی من پربرقرار ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جننگ فیکٹریوں کاٹن جننگ کپاس کی روئی کی

پڑھیں:

مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے

لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ہونےوالی مون سون کی بارش نے جل تھل ایک کردیا۔لاہور میں مون سون کا سپیل زور شور سے جاری ہے اورعلی الصبح سے ہونے والی موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیرآب آگئے ہیں۔واسا لاہور کی جانب سے اب تک ہونے والی بارش کا ریکارڈ جاری کردیاگیاہے جس کے مطابق جیل روڈمیں 28.5، ایئرپورٹ میں 263، ہیڈ آفس گلبرگ میں 52، لکشمی چوک میں 25، اپر مال کے علاقے میں 114.4، مغلپورہ میں 129، تاجپورہ میں 155، نشتر ٹاؤن میں 56.4، چوک ناخدا میں 62، پانی والا تالاب میں 27.2، فرخ آباد میں 23.4، گلشن راوی میں 18، اقبال ٹاؤن میں 54.2، سمن آبادمیں 32، جوہر ٹاؤن میں 81، ڈیفنس روڈ میں 45، شادی پورہ میں 132.4 ، سگیاں میں 22.2اور مناواں میں 106 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی،سب سے زیادہ 263 ملی میٹر بارش ائیر پورٹ پر ریکارڈ کی گئی ہے ۔لاہور میں ہونےوالی موسلادھار بارش سےسیشن کورٹ میں سینئر قانون دان پیر مسعود چشتی سمیت2 وکلاء کے چیمبر گرگئے،پیر مسعود چشتی کا چیمبر کافی عرصے سے خالی پڑاتھا،چیمبر کی چھت بارش کے پانی کا بوجھ برداشت نہ کر سکی اورگرگئی،شدید بارش کی وجہ سے ماتحت عدالتوں میں سائلین نہ پہنچ سکے۔ دوسری طرف آئی جی پنجاب نے پولیس کو حادثات اور ناگہانی صورتحال میں امدادی سرگرمیوں میں شرکت کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ پولیس افسران اور اہلکار بارش سے متاثرہ علاقوں میں انتہائی مستعد ہو کر ڈیوٹی انجام دیں،سپروائزری پولیس افسران بارش زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں خود مانیٹر کریں، بارش کے مزید امکانات کے پیش نظر پولیس افسران اور اہلکار الرٹ رہیں،کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ریسپانڈ کریں۔ملک کے دوسرے حصوں کی طرح ضلع خیبر کے باڑہ اور جمرود کے علاؤہ وادی تیراہ کے پہاڑوں پر بھی ہونے والی بارش سے موسم خوشگوارہوگیا لیکن ندی نالوں میں طغیانی اور دریائے باڑہ میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے ،جولائی کے مہینے میں دسمبر جیسے سردی محسوس کی جارہی ہے،پہاڑی علاقوں میں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے،ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں جبکہ ندی نالوں کے قریب جانے پر پابندی کی خلاف ورزی پر دوافرادکو گرفتار بھی کرلیاگیاہے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن