سندھ کاٹن جننگ فیکٹریوں میں کپاس کی ترسیل میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
کراچی:
کاٹن ایئر 2025-26 کے دوران پنجاب اور بلوچستان سے ملکی تاریخ میں پہلی بار بڑے پیمانے پرکپاس کی خریداری سرگرمیوں کے نتیجے میں سندھ کی کاٹن جننگ فیکٹریوں میں کپاس کی ترسیل میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
جسکے باعث سندھ میں گذشتہ 2 سال کے مقابلے میں دوگنااضافے سے 82 جننگ فیکٹریاں فعال ہوگئی ہیں۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایاکہ روایتی طور پر سندھ کے بڑے کاٹن زون کے بیشتر اضلاع جن میں بدین، ٹھٹھہ، میرپور خاص، حیدر آباد، عمرکوٹ اورسانگھڑ شامل ہیں، کے ساتھ ساتھ دیگرکچھ علاقوں میں فروری اورمارچ کے دوران کپاس کی کاشت شروع ہونے سے جون کے مہینے سے ہی نئے کاٹن جننگ سیزن کاآغاز ہو گیا اوراکتوبر، نومبر میں اس کااختتام ہوتا تھا۔
اس دوران پنجاب کے متعدد کاٹن جنرز بھی سندھ سے کپاس کی خریداری کرکے اپنی جننگ فیکٹریوں کوفعال کر لیا کرتے تھے۔
مزید پڑھیںکاٹن ایئر 2025-26 کے دوران سندھ میں کپاس کی ترسیل میں غیر معمولی اضافہ
پاکستان کاٹن ایکسچینج کی عمارت کی ملکیت کے تنازع پر کے ایم سی کے حق میں حکم امتناع جاری
تاہم گزشتہ تین سال سے سندھ کی بیشترکاٹن جنرز نے پنجاب کی بیشتر بڑی منڈیوں رحیم یار خان،بہاولپور، بہاولنگر، ڈی جی خان، خانیوال اور وہاڑی کے ساتھ بلوچستان سے بھی اعلیٰ معیارکی کپاس کی خریداری شروع ہونے سے سندھ میں 31 دسمبرکو سندھ بھر میں فعال کاٹن جننگ فیکٹریوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ کے مذکورہ کاٹن زون میں بیشتر فعال جننگ فیکٹریاں فی الوقت اعلیٰ اور درمیانے معیارکی کپاس کومکسڈ کر کے کاٹن کی جننگ کررہے ہیں، جس سے مقامی ٹیکسٹائل ملوں کومناسب قیمتوں پرروئی کی فراہمی کے مواقع پیداہوگئے ہیں اور انہی عوامل کے سبب روئی طلب اورقیمتوں میں بتدریج اضافے کا رحجان پیدا ہو گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ روئی کی فی من قیمت گذشتہ ہفتے 200 سے 300 روپے کا اضافہ سامنے آیا ہے، جس کے نتیجے میں فی من روئی کی قیمت 15 ہزار روپے سے بڑھکر 15 ہزار 300 روپے کی سطح پر آگئی ہے،جبکہ اعلیٰ معیارکی روئی کی قیمتیں بدستور 16 ہزارروپے فی من پربرقرار ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جننگ فیکٹریوں کاٹن جننگ کپاس کی روئی کی
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔