Jasarat News:
2026-07-24@01:46:54 GMT

کیا بنگال علیحدگی پسند سیون سسٹرز کی آٹھویں بہن ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کیا بنگال علٰیحدگی پسند سیون سسٹرز کی آٹھویں بہن ہے؟ یہ سوال اس لیے پیدا ہوا کہ مغربی بنگال میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے حالیہ چھاپوں نے بھارت کی وفاقی ساخت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ مودی حکومت کی طرف سے ممتا بینرجی کی ترنمول کانگریس کے دفاتر، خاص طور پر IPAC کے دفاتر پر 7 اور 8 جنوری کو ہونے والی کارروائیوں نے نہ صرف سیاسی تنازعات کو ہوا دی ہے بلکہ صوبائی سطح پر علٰیحدگی پسندانہ جذبات کو بھی ابھار دیا ہے۔

جنوری 2026 میں ED نے کولکتہ میں IPAC (Indian Political Action Committee) کے دفاتر اور اس کے چیف پریٹک جین کے گھر پر چھاپے مارے۔ بظاہر یہ کارروائی کوئلہ اسمگلنگ کیس سے جڑی ہوئی بتائی گئی تھی، جہاں حوالہ آپریٹرز کے ذریعے کروڑوں روپے کی منتقلی کا الزام لگایا گیا۔ یہ الزام لگایا گیا کہ ممتا بینرجی نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر دستاویزات اور لیپ ٹاپس ہٹا لیے، جس پر ED نے کلکتہ ہائی کورٹ میں مداخلت کی شکایت درج کروائی۔ ممتا بینرجی نے اسے سیاسی انتقام قرار دیا، دعویٰ کیا کہ مرکزی ایجنسیاں بی جے پی کے اشارے پر ٹی ایم سی کا ڈیٹا چوری کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، خاص طور پر 2026 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے۔ یہ پہلا موقع نہیں۔ مودی حکومت پر الزام لگتا رہا ہے کہ ED، CBI جیسی مرکزی ایجنسیوں کو اپوزیشن کے خلاف ہتھیار بنایا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 95 فی صد ED کیسز اپوزیشن لیڈرز پر ہیں، جبکہ بی جے پی لیڈرز کم متاثر ہوتے ہیں۔ مغربی بنگال میں یہ چھاپے SIR (Special Intensive Revision) ووٹر لسٹ کی تنازعات کے ساتھ مل کر ایک بڑا طوفان کھڑا کر رہے ہیں، جہاں 32 لاکھ غیر میپ شدہ ووٹرز کی شناخت پر بی جے پی اور الیکشن کمیشن کا کردار مشکوک ہے۔ ممتا نے بی جے پی پر اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کو ووٹر لسٹ سے ہٹانے کا الزام لگایا، جو صوبائی سطح پر غم و غصے کو بڑھا رہا ہے۔

کیا یہ چھاپے مغربی بنگال کو مرکزی بھارت سے الگ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں؟ تاریخی طور پر، بنگال میں علٰیحدگی پسندی کے رجحانات موجود رہے ہیں۔ 1905 کی تقسیم بنگال سے لے کر 1971 کی بنگلا دیش آزادی تک۔ حالیہ تنازعات میں، مودی کی بی جے پی نے ایس آئی آر تنازع اور انفلٹریشن الزام اٹھائے، جہاں غیر قانونی انفلٹریٹرز (بنگلا دیش سے) کو ہٹانے کی مہم چلائی۔ ٹی ایم سی اسے مسلمان ووٹرز کے خلاف سازش کہتی ہے، جو بنگال کی 27 فی صد مسلم آبادی کو برہم کر رہی ہے۔ الگ ہونے کے امکانات کم ہیں۔ صرف 10 سے 15 فی صد تک لیکن یہ بڑھ سکتا ہے۔ اگرچہ بھارت کے آئین کا آرٹیکل 356 مرکزی حکومت کو مداخلت کی اجازت دیتا ہے۔ تاہم، خبروں کی روشنی میں، ممتابینرجی کا سڑکوں پر احتجاجی مارچ اور ٹی ایم سی کارکنوں کا ED کے خلاف احتجاج اور صوبائی حکومت کے خلاف ایف آئی آر نے بنگال کے جذبات کو ابھارا ہے۔ اگر 2026 کے انتخابات میں ووٹر لسٹ تنازع برقرار رہا تو، بنگال میں Sonar Bangla (سنہری بنگال) جیسے نعرے زور پکڑ سکتے ہیں۔ دوسرے صوبوں جیسے تامل ناڈو، کیرالہ یا پنجاب میں بھی ED کی چھاپوں سے عدم اعتماد بڑھ رہا ہے، جہاں DMK اور CPI (M) بھی یہی الزامات لگا رہے ہیں۔ بظاہر علٰیحدگی کی کوئی منظم تحریک نظر نہیں آتی؛ فی الحال یہ زیادہ تر سیاسی دباؤ ہے۔ خبروں میں، بی جے پی کی 2024 لوک سبھا کامیابی کے بعد صوبائی اپوزیشن کمزور پڑ گئی، مگر بنگال میں ممتا بینرجی کی 2021 فتح ابھی موثر ہے۔ الیکشن کمیشن کا تنازع اور انتخابات کا مستقبل ED چھاپوں نے تاریک کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا اپنی ساکھ کو بیٹھا ہے۔ مغربی بنگال میں ایس آئی آر 2026 کے تحت 58 لاکھ ووٹرز کے نام ڈرافٹ لسٹ سے ہٹائے گئے، جن میں سے 1.

36 کروڑ نام مشتبہ قرار پائے، 2002 کی لسٹ میں نہ ہونے والے، کم عمر والد یا یکساں ماں باپ والے۔ بوتھ لیول افسران نے نئے ایپ آپشنز پر احتجاج کیا، بائیکاٹ کی دھمکی دی۔ ممتا بینرجی نے الیکشن کمیشن اور بی جے پی پر ووٹر ہراسانی کا الزام لگایا، کہا کہ یہ مسلمانوں اور غریبوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے دفاع میں کہا کہ یہ روٹین ویریفکیشن ہے، جیسے امارتیہ سین اور محمد شامی کو بھی نوٹس گئے۔ لیکن تنازع بڑھتا جا رہا: بوتھ لیول افسران نے CEO منوج کمار اگروال کے دفتر پر مارچ کیا، دعویٰ کیا کہ روزانہ نئی ہدایات سے کام بوجھ بڑھ رہا ہے۔ 27 دسمبر سے سماعتیں شروع ہونے والی ہیں، جہاں 32 لاکھ ووٹرز کو طلب کیا جائے گا۔ اگر اعتراضات (16 دسمبر 2025 تا 15 جنوری 2026) نہ سنے گئے تو، 2026 بنگال انتخابات مشکوک ہو جائیں گے۔ مودی حکومت کی مرکزی ایجنسیوں کی مداخلت سے الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوال اٹھے، جیسا کہ 2024 لوک سبھا میں EVM تنازعات میں ہوا۔ یہ صورتحال پورے بھارت کو متاثر کر سکتی ہے۔ تامل ناڈو میں ڈی ایم کے، کیرالہ میں ایل ڈی ایف اور دہلی میں اے اے پی الیکشن کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ ED کی چھاپوں اور ایس آئی آر تنازع سے مل کر، انتخابات کا عمل مشکوک ہو گیا ہے۔ ووٹر لسٹ کی تضادات، بلوں کی بڑی تعداد اور بڑھتا ہوا مرکزی دباؤ۔ معاملات کو مشکوک بنا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عدالت عظمیٰ نے مداخلت نہ کی تو، 2026 میں متعدد ریاستوں کے انتخابات میں قانونی چیلنجز آئیں گے۔

صوبائی حقوق اور وفاقی بحران مودی کے اقتدار کے دوسرے دور (2024-2029) میں مرکز ریاست تعلقات کشیدہ ہیں۔ خاص کر ان ریاستوں کے ساتھ جہاں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے ان میں جی ایس ٹی فارمولا کی تقسیم اور اب ED چھاپے سب صوبوں کی خود مختاری کو کمزور کر رہے۔ بنگال میں ممتا بینرجی کی Didi vs ED مہم نے بی جے پی کو Dalta Desh (دشمن ملک) کہلا دیا۔ خبروں میں، کلکتہ ہائی کورٹ میں افراتفری اور جج کا چیمبر چھوڑنا الیکشن کمیشن کی ناکامی کو اُجاگر کرتا ہے۔ دوسرے صوبوں میں، مہاراشٹر بلدیاتی انتخابات میں بلا مقابلہ جیت پر تنازع الیکشن کمیشن کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچا رہا۔ علٰیحدگی کے امکانات کو کم رکھتے ہوئے، یہ بحران جمہوریت کے لیے خطرہ ہے۔ اگر ED جیسی ایجنسیاں سیاسی ہتھیار بنی رہیں تو، صوبائی پارٹیاں الگ حیثیت کا مطالبہ کریں گی۔ بنگال میں 2026 انتخابات الیکشن کمیشن کا امتحان ہوں گے۔ شفاف ووٹر لسٹ، غیر جانبدار ایس آئی آر اور ED کی غیر ضروری مداخلت کو ختم کرنا ہوگا۔ ابھی بھارت کے پاس جمہوریت بچانے کا وقت ہے ED چھاپوں اور الیکشن کمیشن تنازعات سے بھارت کی وفاقی ساخت خطرات میں ہے، مگر الگ ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سیاسی دباؤ سے انتخابات مشکوک ہو رہے، الیکشن کمیشن متنازع ہوتا جارہا ہے جس کو روکنے کے لیے عدالت عظمیٰ اور سول سوسائٹی کو مداخلت کرنی چاہیے۔ مودی حکومت کو اداروں کی غیر جانبداری یقینی بنانی چاہیے، ورنہ ریاستی حکومتوں کی ناراضی اور منفی ردعمل مودی پر بھاری پڑے گا۔

وجیہ احمد صدیقی سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن مغربی بنگال الزام لگایا ممتا بینرجی ایس ا ئی ا ر مودی حکومت بنگال میں ووٹر لسٹ عل یحدگی بی جے پی رہے ہیں کے خلاف رہا ہے

پڑھیں:

آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف

تصویر سوشل میڈیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے۔

وزیراعظم کی زیرِ صدارت آئی ٹی کے شعبے کی اسٹریٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا۔ 

اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔  

شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئی ٹی کے شعبے کے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ 

اعلامیہ کے مطابق انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ 

اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025 میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی۔  

وزیراعظم کو ’’کنیکٹ پاکستان وژن 2030‘‘ کے اجراء کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔ 

اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا۔ 

بریفنگ کے مطابق جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دیے گئے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن