Jasarat News:
2026-06-02@23:43:09 GMT

عالمِ اسلام کو پارہ پارہ کرنے کی عالمی سازشیں

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

عالم ِ اسلام کی معاصر تاریخ پر اگر گہری نظر ڈالی جائے تو ایک تلخ حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ مسلم اکثریتی ممالک کو براہِ راست جنگ کے بجائے اندر سے توڑنے، کمزور کرنے اور باہمی تنازعات میں الجھانے کی ایک منظم عالمی حکمت ِ عملی مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔ یہ حکمت ِ عملی کبھی مذہبی اختلافات کو ہوا دے کر، کبھی نسلی و لسانی شناختوں کو ابھار کر اور کبھی انسانی حقوق، جمہوریت یا دہشت گردی کے خلاف جنگ جیسے خوش نما نعروں کی آڑ میں نافذ کی جاتی ہے۔ نتیجہ ہر جگہ ایک جیسا نکلتا ہے، مضبوط ریاستیں کمزور، متحد معاشرے منقسم، اور خودمختار ممالک عالمی طاقتوں کے مفادات کی چراگاہ بن جاتے ہیں۔ ماضی قریب میں رقبے کے لحاظ سے عالم ِ اسلام کے سب سے بڑے ملک سوڈان کو مذہبی اور نسلی بنیادوں پر تقسیم کر کے جنوبی سوڈان کو الگ ریاست بنا دیا گیا۔ اس تقسیم کو امن کی ضمانت کے طور پر پیش کیا گیا مگر آج حقیقت یہ ہے کہ نہ سوڈان کو استحکام ملا اور نہ ہی جنوبی سوڈان میں امن قائم ہوسکاہے۔ جنوبی سوڈان خانہ جنگی، بھوک، بدامنی اور بیرونی مداخلت کا مستقل شکار ہے جبکہ خود سوڈان ایک بار پھر ایسی خانہ جنگی میں دھنس چکا ہے جس کے نتیجے میں اس کے مزید ٹکڑوں میں بٹنے کے خدشات روز بروز بڑھ رہے ہیں۔ اسی طرح آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک انڈونیشیا کو عیسائی اکثریتی خطے مشرقی تیمور سے محروم کر دیا گیا۔ یہ علٰیحدگی بھی انسانی حقوق اور ریفرنڈم کے نام پر کرائی گئی مگر اس کے پس پردہ عالمی طاقتوں کے اسٹرٹیجک مفادات کسی سے پوشیدہ نہیں تھے۔ اس مثال نے ایک خطرناک روایت قائم کی کہ مسلم اکثریتی ممالک کے اندر موجود کسی بھی نسلی یا مذہبی اکثریت والے خطے کو عالمی سرپرستی کے ذریعے الگ کیا جا سکتا ہے۔

افریقا اور عرب دنیا میں لیبیا اس سازشی ماڈل کی شاید سب سے واضح اور المناک مثال ہے۔ کرنل معمر قذافی کے دور میں لیبیا ایک مضبوط مرکزی ریاست تھی جو اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود داخلی طور پر متحد اور بیرونی دباؤ سے بڑی حد تک آزاد تھی۔ 2011 میں ناٹو کی مداخلت، جسے عرب بہار اور عوامی بغاوت کا نام دیا گیا لیبیا کے ریاستی ڈھانچے کو مکمل طور پر توڑ دینے کا نقطۂ آغاز ثابت ہوئی۔ قذافی کے خاتمے کے بعد لیبیا میں جمہوریت نہیں آئی بلکہ ملک مشرقی اور مغربی حصوں میں بٹ گیا۔ لیبیا آج عملی طور پر ایک متحد ریاست نہیں بلکہ مختلف ملیشیاؤں، قبائلی گروہوں اور بیرونی طاقتوں کی پراکسی جنگ کا میدان ہے۔ ترکی، روس، یورپی ممالک اور خلیجی ریاستیں سب کسی نہ کسی صورت میں لیبیا کے تنازع کا حصہ ہیں۔ تیل کے ذخائر، بحیرۂ روم تک رسائی اور افریقا سے یورپ جانے والے مہاجرین کے راستے یہ سب وہ عوامل ہیں جنہوں نے لیبیا کو عالمی طاقتوں کے لیے ایک مستقل میدانِ جنگ بنا دیا ہے۔ نتیجتاً ایک مسلم ملک جو کبھی افریقا میں استحکام کی علامت سمجھا جاتا تھا آج تقسیم، بدامنی اور انتشار کی تصویر بن چکا ہے۔

اسی تسلسل میں صومالیہ کی مثال بھی نہایت اہم ہے۔ صومالیہ پہلے ہی کئی دہائیوں سے خانہ جنگی، قحط اور بیرونی مداخلت کا شکار رہا ہے۔ اس کمزور ریاست کے شمالی حصے میں خودساختہ ’’صومالی لینڈ‘‘ کا قیام 1991 میں عمل میں آیا مگر تین دہائیوں تک اسے کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا۔ اب اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو باضابطہ طور پر آزاد ریاست تسلیم کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو نہ صرف صومالیہ کی علاقائی سالمیت پر حملہ ہے بلکہ پورے عالم ِ اسلام کے لیے ایک خطرناک نظیر بھی قائم کرتا ہے۔ یہ فیصلہ محض سفارتی نہیں بلکہ گہرے اسٹرٹیجک مفادات سے جڑا ہوا ہے۔ خلیجِ عدن، بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب آج عالمی سیاست کے اہم ترین مراکز بن چکے ہیں۔ یمن میں حوثیوں کی سرگرمیوں اور غزہ جنگ کے بعد اسرائیل کو ان آبی گزرگاہوں میں اپنی موجودگی مضبوط کرنے کی شدید ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ صومالی لینڈ اس مقصد کے لیے ایک مثالی مقام ہے جہاں پہلے ہی متحدہ عرب امارات نے فوجی اور تجارتی بندرگاہوں میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

یمن کی صورتحال اس پوری عالمی شطرنج کا مرکزی مہرہ بن چکی ہے۔ ایک طرف ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک ہے جو شمالی یمن کے بڑے حصے پر قابض ہے اور بحیرۂ احمر میں اسرائیلی اور مغربی جہازوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ دوسری طرف جنوبی یمن میں جنوبی عبوری کونسل ہے جو متحدہ عرب امارات کی سرپرستی میں یمن کو توڑ کر ایک نئی ریاست قائم کرنے کے لیے سرگرم ہے۔ جنوبی عبوری کونسل کے سربراہ عیدروس الزبیدی کی صومالی لینڈ اور پھر متحدہ عرب امارات منتقلی کے انکشافات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ علٰیحدگی پسند منصوبے مقامی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر منظم کیے جا رہے ہیں۔

اس پورے منظرنامے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتی ہوئی خاموش رقابت بھی قابل ِ غور ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک بظاہر یمن میں ایک ہی فوجی اتحاد کا حصہ رہے ہیں لیکن بندرگاہ المکلا پر سعودی فضائی حملے اور اس کے بعد یو اے ای کی جانب سے یمن سے فوجی انخلا کے اعلانات نے واضح کر دیا ہے کہ اتحادیوں کے مفادات ایک جیسے نہیں رہے۔ یہ اختلافات دراصل یمن کی وحدت کے لیے مزید خطرات پیدا کر رہے ہیں۔ ایران کا کردار بھی اس تصویر کا ایک اہم پہلو ہے۔ حوثی تحریک کی نظریاتی، عسکری اور سیاسی تشکیل میں ایران کا اثر و رسوخ اقوامِ متحدہ کی متعدد رپورٹوں میں دستاویزی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اگرچہ حوثی خود کو ایرانی پراکسی ماننے سے انکار کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یمن آج ایران اور اس کے مخالف علاقائی و عالمی اتحادوں کے درمیان ایک بڑا محاذ بن چکا ہے۔ اس پراکسی جنگ کا سب سے بڑا نقصان یمن کی ریاستی وحدت اور اس کے عوام کو ہو رہا ہے۔

ان تمام مثالوں سوڈان، لیبیا، صومالیہ اور یمن کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو ایک واضح پیٹرن سامنے آتا ہے۔ مسلم ممالک کو اندرونی تنازعات میں الجھا کر، علٰیحدگی پسند تحریکوں کو ابھار کر اور پھر انہیں بین الاقوامی سطح پر تسلیم کر کے ایک نئی جغرافیائی حقیقت مسلط کی جا رہی ہے۔ یہ وہی طریقہ ہے جو ماضی میں نوآبادیاتی طاقتیں استعمال کرتی تھیں، فرق صرف یہ ہے کہ آج اسے جدید سفارت کاری، انسانی حقوق اور امن کے نعروں میں لپیٹ دیا گیا ہے۔

عرب لیگ، پاکستان، ترکی، مصر اور دیگر مسلم ممالک کی جانب سے اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کی مذمت ایک مثبت قدم ضرور ہے مگر صرف بیانات سے یہ سازشیں رکنے والی نہیں ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالم ِ اسلام داخلی اختلافات، فرقہ واریت اور باہمی رقابتوں سے نکل کر مشترکہ مؤقف اور عملی حکمت ِ عملی اپنائے۔ اگر آج لیبیا کی تقسیم کو نظرانداز کیا گیا، سوڈان کے بکھرنے پر خاموشی اختیار کی گئی اور یمن و صومالیہ میں علٰیحدگی پسند منصوبوں کو نہ روکا گیا تو کل یہ آگ کسی اور مسلم ملک کے دروازے پر بھی دستک دے سکتی ہے۔ لہٰذا یہ وقت ہے کہ مسلم دنیا تاریخ سے سبق سیکھے اور یہ سمجھے کہ عالم ِ اسلام کو پارہ پارہ کرنے کی یہ سازشیں کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ایک مسلسل اور منظم عالمی سازش ہے جس کا ہدف پوری امت کی اجتماعی طاقت اور خودمختاری کو پارہ پارہ کرنا ہے۔

ڈاکٹر عالمگیر آفریدی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: متحدہ عرب امارات صومالی لینڈ اور بیرونی عل یحدگی رہے ہیں دیا گیا کرنے کی چکا ہے رہی ہے کے لیے

پڑھیں:

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب ہو گئے ہیں جسے عالمی سفارت کاری میں بنگلہ دیش کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے وزیر برائے چٹاگانگ ہل ٹریکٹس افیئرز خرابی صحت کے باعث مستعفی

منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں ہونے والے انتخاب میں ڈاکٹر خلیل الرحمان نے قبرص کے امیدوار کو شکست دے کر یہ اہم منصب حاصل کیا۔

مبصرین کے مطابق یہ کامیابی عالمی سطح پر بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار، کثیرالجہتی تعاون اور بین الاقوامی اداروں میں اس کی مضبوط ہوتی ساکھ کا مظہر ہے۔

وزیراعظم طارق رحمان نے ڈاکٹر خلیل الرحمان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کا انتخاب عالمی سطح پر بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور مثبت کردار کا اعتراف ہے۔

مزید پڑھیے: سابق صدر بنگلہ دیش ضیاء الرحمان کی 45ویں برسی: صاحبزادے و وزیراعظم طارق رحمان کا خراج عقیدت

اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کا صدر منتخب ہونے پر وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اس اہم منصب پر بنگلہ دیش کی بہترین نمائندگی کریں گے اور عالمی برادری کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے رابطوں، مکالمے اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ وہ بنگلہ دیش کا نام مزید روشن کریں گے اور عالمی مسائل کے حل کے لیے تعاون اور ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ان کی نئی ذمہ داریوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔‘

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں چمڑے کی منڈی بحران کا شکار، مدارس اور یتیم خانوں کو خسارہ، وجہ کیا ہے؟

ڈاکٹر خلیل الرحمان جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے باقاعدہ آغاز پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ اس حیثیت میں وہ عالمی امن و سلامتی، پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، عالمی حکمرانی اور دیگر اہم بین الاقوامی امور پر ہونے والے مباحث اور اجلاسوں کی صدارت کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان نے ڈاکٹر خلیل الرحمان خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب طارق رحمان کی ڈاکٹر خلیل رحمان کو مبارکباد

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی