رنویر سنگھ اور اکشے کھنہ کی بلاک بسٹر اسپائی تھرلر فلم دھریندھر نہ صرف اپنی طاقتور کہانی، مکالموں اور اداکاری کے باعث سرخیوں میں ہے بلکہ اس کی شوٹنگ لوکیشنز بھی شائقین کے لیے ایک معمہ بنی ہوئی تھیں۔

خاص طور پر فلم میں دکھایا گیا کراچی اور لیاری جس پر ناظرین بار بار سوال کر رہے ہیں کہ آخر یہ مناظر حقیقت میں کہاں فلمائے گئے؟

ہدایت کار آدتیہ دھر کی اس میگا فلم نے صرف 35 دنوں میں دنیا بھر سے 1,233 کروڑ روپے کا بزنس کر کے باکس آفس پر تہلکہ مچا دیا حالانکہ خلیجی ممالک میں اس فلم پر پابندی لگی ہوئی ہے۔

اس کامیابی کے پیچھے نہ صرف کہانی بلکہ فلم کی انتہائی سوچ سمجھ کر منتخب کی گئی لوکیشنز کا بھی بڑا کردار ہے۔

فلم کا آغاز بنکاک، تھائی لینڈ سے ہوا جہاں جولائی 2024 میں شوٹنگ شروع کی گئی۔ رپورٹس کے مطابق بنکاک کو پاکستان کے شہری علاقوں کی عکاسی کے لیے منتخب کیا گیا، جہاں سرویلنس اور ہائی اوکٹین چیز سیکوئنس فلمائے گئے۔

یہاں سیٹس کو اس مہارت سے ڈیزائن کیا گیا کہ وہ پاکستانی علاقوں سے مشابہ نظر آئیں، تاکہ کہانی کا سسپنس برقرار رہے۔

 

ناظرین کو چونکا دینے والا انکشاف یہ ہے کہ فلم میں دکھایا گیا لیاری اور کراچی کا ساحلی ماحول دراصل ممبئی کے مادھ آئی لینڈ میں تخلیق کیا گیا۔

تنگ گلیاں، عمارتوں کی ساخت اور کیمرہ اینگلز نے لیاری کا ایسا تاثر دیا کہ دیکھنے والے حقیقت اور فلم میں فرق نہ کر سکے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں رنویر سنگھ کا مشہور ڈائیلاگ ’ اگر تم لوگوں کے پٹاخے ختم ہو گئے ہوں تو میں دھماکے شروع کروں ‘ فلمایا گیا۔

 

فلم کے کئی اہم اندرونی مناظر فلمستان اسٹوڈیوز میں فروری 2025 کے دوران شوٹ کیے گئے، جو فلم کا مرکزی پروڈکشن بیس رہا۔

ایکشن اور ٹرانزیشن سینز کو حقیقت سے قریب رکھنے کے لیے ڈومبیولی کے منکولو برج کو بغیر زیادہ تبدیلی کے استعمال کیا گیا جہاں انڈسٹریل ماحول نے چیز سیکوئنس کو مزید جان دار بنا دیا۔

 

پنجاب کے شہر امرتسر میں گولڈن ٹیمپل کے اطراف جذباتی مناظر نہایت احتیاط اور احترام کے ساتھ فلمائے گئے، جبکہ لدھیانہ کے کھیڑا گاؤں کو پاکستان کے ایک دیہی علاقے میں تبدیل کر کے یادوں اور جذبات سے بھرپور سین عکس بند کیے گئے۔

 

فلم کا سب سے مشکل مرحلہ لداخ میں آیا، جہاں اگست 2025 میں سخت موسم اور بلند پہاڑی علاقوں کے باوجود شوٹنگ مکمل کی گئی۔ پتھر صاحب جیسے ویران اور سرد مقامات نے فلم کی کہانی میں تنہائی، جدوجہد اور خطرے کے احساس کو مزید گہرا کر دیا۔

 

دلچسپ طور پر فلم کے سنجیدہ اور سنسنی خیز ماحول کے بیچ رنگ اور توانائی کا تڑکا لگانے والے گانے کو پارلے کی گولڈن ٹوبیکو فیکٹری میں فلمایا گیا جہاں شاندار رقص کے مناظر نے ناظرین کو ایک بالکل مختلف تجربہ دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کیا گیا

پڑھیں:

اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار

روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔

معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔

بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار