خطرہ ہے دو چار ماہ بعد پاکستان کے کچھ علاقے علیحدگی کا اعلان کردیں گے، محمود اچکزئی
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
لاہور:
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود اچکزئی نے کہا ہے کہ مجھے خطرہ ہے دو چار مہینے بعد پاکستان کے کچھ علاقے علیحدگی کا اعلان کردیں گے۔ میں پانچ بڑوں کو نہیں مانتا چار کو بڑا مانتا ہوں اور چار بڑوں کی وجہ سے پانچواں بڑا آیا۔
لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت کے ماحول میں بھی لاہور کے لوگوں نے ہمارا بہت اچھا استقبال کیا، ہم لاہور فتح کرنے نہیں بلکہ آٹھ فروری کے حوالے سے تحریک چلانے کیلئے آئے تھے۔ یہاں سب اپنی اپنی ڈیوٹی کر رہے ہیں، گاڑیاں ٹوٹی تو پولیس اپنی ڈیوٹی کررہی ہے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جب سے آئین بنا جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں نے اسے توڑا، بعض لوگوں کو یہ آزادی حاصل ہے جب چاہیں آئین کو پھاڑ دیں جب چاہیں سیاستدانوں کو پھانسی دے دیں۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان ایک آخری ایس و ایس پیغام ہے، جب جہاز ڈوب رہا ہوتا ہے تو ایس او ایس کال دی جاتی ہے ایسے ہی پاکستان ڈوب رہا ہے، آٹھ فروری کو سب اپنے اپنے حساب سے احتجاج کریں۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے کارکن فرسٹریٹ ہیں وہ اپنے راہبروں کو بھی گالیاں دے رہے ہیں، ہم نے ان کو منع کیا ہے گالیاں نہ دیں حالانکہ ہم تحریک انصاف کے نہیں ہیں، ہم نے ان کو سمجھایا آپ تحریک چلائیں، پاکستان ہمارا گھر ہے، لوگ روزگار کمانے باہر جا رہے ہیں کیونکہ پاکستان میں روزگار نہیں ہے، جو آدمی ایمان بیچتا ہے اس کو یہاں محب وطن کہا جاتا ہے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ نو مئی کے روز کور کمانڈر ہاوس کھلا ہوا کیوں تھا، بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے جوڈیشل کمیشن بنائیں کیوں نہیں بناتے، آٹھ فروری کا ایجنڈا صرف عمران خان کی رہائی نہیں ہے، اس وقت پورے ملک میں فسطائیت ہے، پلان یہ ہے جہاں ہم کرسکتے ہیں وہاں جلوس نکالیں گے اور ہڑتال کریں گے
انہوں نے مزید کہا کہ یہ کبھی نہیں ہوا دنیا کی تاریخ میں کہ ایک چیف جسٹس سیاسی جماعت کا نشان چھین لے، بندوق کے زور پر طاقت کے زور پر دہشت گردی کی گئی، جو شخص بکرے کی طرح بکتا ہے وہ محب وطن پاکستانی ہے، جو شخص آئین کے ساتھ یا اپنا حق لینا چاہتا ہے وہ دہشت گرد بن جاتا ہے، خواتین کو سڑک پر گھسیٹنا تھانے لیکر جانا کہیں بھی نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت جتنے بھی بحرانوں میں ہے وہ سب اندرونی ہیں، نا انصافیاں گھروں کو توڑتی ہیں اگر ملک بے انصافی سے چلے گا تو ملک کا کیا ہوگا۔ یہ خطہ بہت خطرناک جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے، ہم نے آج تک پارلیمنٹ میں بحث بھی نہیں کی کہ ہمارے اردگرد کیا ہو رہا ہے، ووٹ کو عزت اور روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگانے والے ایسی ترمیم کرتے ہیں جس سے ملک تباہ ہوتا ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز